25 مارچ 2012 - 19:30

امریکی سرکردگی میں مغرب کے بےبنیاد بہانوں سےبرسوں سے ایران کی ایٹمی پیشرفت روکنےکےلئے انجام دیئےجانےوالےاقدامات کاسلسلہ جاری ہے۔

ابنا: سئول میں ایٹمی سیکورٹی اجلاس کےموقع پر اتوارکےدن بھی اس کاسلسلہ جاری رکھتےہوئے امریکی صدر باراک اوبامہ نے کہا کہ ڈپلومیٹک طریقے سےایران کےساتھ مسائل کےحل کاوقت ابھی باقی ہے۔

پریس ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق باراک اوبامہ نےترکی کےوزيراعظم رجب طیب اردوغان سےگفتگو کرتےہوئےکہاکہ ڈپلومیٹک طریقےسے ایران کےساتھ مسائل کےحل کاوقت ابھی باقی ہے۔

مذاکرات کےذریعے ایران کےایٹمی مسئلے کےحل کی جانب اوبامہ کا اشارہ اس موقف کےبرخلاف ہے جو امریکہ میں بعض انتہاپسندوں ، صیہونی حکومت اوران کےبعض اتحادیوں کی جانب سےایران پرفوجی حملے کےسلسلےمیں سامنے آرہا ہے لیکن اس میں اوراصل موضوع میں کوئی فرق نہيں ہے۔

درحقیقت دونوں موقف ایران پرفوجی مقاصد کےلئے ایٹمی پروگرام جاری رکھنےکاالزام لگاکر ایران کی پیشرفت روکنے کی کوشش ہے۔

قابل غور نکتہ بھی یہی ہے کیونکہ ایران کےپرامن ایٹمی پروگرام کومسئلہ بنانے کا بنیادی مقصد بھی ایران کےآئيڈیل بننے اور اس کی پیشرفت وترقی کی راہ میں روکاوٹ ڈالنا ہے۔ جبکہ ایران کےایٹمی پروگرام میں انحراف کا ابھی تک کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

درحقیقت امریکی حکام ، واشنگٹن کےاشارے پرتیارہونےوالی ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےڈائرکٹریوکیاآمانو کی رپورٹ کوبہانہ بنارہے ہیں تاکہ ایران پر این پی پی معاہدے کی خلاف ورزی کاالزام لگائے ۔ البتہ یہ الزام اب ایران پر پابندیاں عائد کرنے اور اس پرفوجی حملے کی دھمکی کابہانہ بن چکاہے۔

جبکہ ایران کی تمام ایٹمی سرگرمیاں پرامن اور ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی زیرنگرانی ہیں اور ایران این پی ٹی کاایک ذمہ دار رکن ہے۔ بنابرایں واضح ہے کہ تہران کو آيٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےقوانین کےدائرے میں اپنےحقوق سےاستفادہ کرنےکاحق ہے۔ اوراسی بنا پر ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیاں جاری ہیں۔

مسلمہ امر یہ ہے کہ ایران میں ایٹمی ٹیکنالوجی کی بنیاد پڑچکی ہے اور ایران آئندہ بھی ملک کی ترقی وپیشرفت کےلئے پرامن مقاصد کےلئے اس ٹیکنالوجی سے استفادہ کاعزم کئےہوئےہے۔ جبکہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےمعائنہ کاروں کی جانب سے ایران کی ایٹمی تنصیبات کامسلسل معائنہ بھی آئی اے ای اے کےساتھ ایران کےشفاف تعاون کا ثبوت ہے۔ اس مسئلے سےپتہ چلتاہے کہ ایران اپنےایٹمی پروگرام کےپرامن ہونے پریقین کےساتھ آئي اے ای اے کےساتھ اپنا تعاون جاری رکھناچاہتاہے۔..... /169