24 مارچ 2012 - 19:30

مصر کي پارليمنٹ کے اسپيکر نے بتايا ہے کہ ملک کے نئے آئين کي تدوين کرنے والے پينل کے ليے ايک سو اراکين کو منتخب کرليا گيا ہے-

ابنا: محمد سعد کتاتني نے کہا ہے کہ پينل کے اراکين کے انتخاب ميں بارہ گھنٹوں کا وقت لگا ہے اور يہ پينل بدھ کے روز اپنا پہلا اجلاس کرے گا  -  اس پينل کي رکنيت کے ليے زيادہ تر اميدوار اسلام نواز جماعتوں سے تعلق رکھتے تھے- مصر کي ڈيموکريٹک پارٹي کے ايک رکن پارليمنٹ صبحي صبري نے بتايا کہ پينل کے اٹھہتر رکن آزادي و انصاف اور نور پارٹيوں کے ہيں اور صرف بائيس ارکان ديگر جماعتوں سے تعلق رکھتے ہيں بنابريں نيا آئين، اکثريت کي خواہش کے مطابق تيار ہوگا-اس رپورٹ کے مطابق آئين کي تدوين کے پينل کے ارکان کا انتخاب شروع ہونے کے بعد پارليمنٹ کے اندر اور باہر، اس پينل کي تشکيل کے طريقہ کار کے بارے ميں زوردار بحث ہوتي رہي اور بعض جماعتوں نے اجلاس سے واک آؤٹ بھي کيا

مصر ميں اخوان المسلمين تنظيم نے حکمراں فوجي کونسل کو موجودہ حکومت کي حمايت کرنے کي جانب سے خبردار کيا ہے-

اخوان المسلمين نے مصر کي فوج پر الزام عائد کيا ہے کہ وہ مصر کے عوام کے انقلاب ميں رکاوٹيں ڈال رہي ہے جس کے سبب سابق  ڈکٹيٹر  حسني مبارک کي حکومت سرنگوں ہو گئي تھي- اس تنظيم نے سخت لب و لہجے والے ايک بيان ميں کہا ہے کہ ملک ميں بدامني، عدالتي کارروائي ميں مداخلت، اصلاحات ميں رکاوٹ، ايندھن کي کمي اور زر مبادلہ کے ذخائر ميں کمي کے مدنظر موجودہ حکومت کي کارکردگي بري طرح  ناکام رہي ہے- اخوان المسلمين کي سياسي شاخ آزادي اور انصاف پارٹي نے فوج پر دباؤ ڈالا ہے کہ وہ موجودہ کابينہ کو تحليل کرے اور اس کي قيادت ميں نئي حکومت کي تشکيل کي راہ ہموار کرے کيونکہ پارليماني انتخابات ميں اسے سب سے زيادہ سيٹيں حاصل ہوئي ہيں- مصر ميں اعلي فوجي کونسل جس نے حسني مبارک کي حکومت گرنے کے بعد اقتدار اپنے ہاتھ ميں لے ليا ہے، مصر کي کابينہ اور وزير اعظم کمال جنزوري کي حمايت کر رہي ہے- کہا جا رہا ہے کہ فوج کي جانب سے موجودہ حکومت کي حمايت کے سبب عوام ميں اس بات کو لے کرشک و شبہہ پايا جاتا ہے کہ صدارتي انتخابات کے منصفانہ آزادانہ اور منصفانہ طريقے سے ہوسکيں گے  .......

/169