22 مارچ 2012 - 19:30

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص قسم کی خصوصیات اور اوصاف کے مالک تھے۔ یہ لوگ آیات قرآنی اور خدا کی وحی کو بلا واسطہ طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے سن لیا کرتے تھے؛ ... اور ... لیکن ...

3

عدل صحابہ

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اصحاب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص قسم کی خصوصیات اور اوصاف کے مالک تھے۔ یہ لوگ آیات قرآنی اور خدا کی وحی کو بلا واسطہ طور پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زبان مبارک سے سن لیا کرتے تھے؛ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ کے معجزات کا مشاہدہ کرتے، آپ (ص) کے گوہر سخن کے استماع سے پرورش پاتے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ آلہ و سلم کے عملی نمونوں اور اسوہ حسنہ سے مستفیض ہوجایا کرتے تھے چنانچہ ان کے درمیان عظیم اکابرین اور ممتاز شخصیات پروان چڑھیں جو عالم اسلام کے لئے فخر و مباہات کا باعث ہیں؛ لیکن اہم مسئلہ یہ ہے کہ کیا تمام صحابہ مؤمن، صادق، صالح، نیکوکار اور عادل تھے؟ یا کہ ان کے درمیان غیر صالح افراد بھی موجود تھے؟

1۔ دو متضاد عقید

صحابہ کے بارے می دو مختلف عقائد و آراء موجود ہیں:

پہلی رائے یہ ہے کہ تمام صحابہ تقدس کے ایک دائرے میں قرار پائے ہیں اور سارے کے سارے صالح، صادق، متقی اور عادل ہیں، اسی وجہ سے ول جو کچھ بھی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نقل کریں گے وہ صحیح اور قابل قبول ہوگا اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہیں کیا جاسکتا اور اگر کہیں ان سے کوئی خطا ہوئی بھی ہو تو ہمارا فرض ہے کہ اس کی توجیہ کا اہتمام کریں اور اس کو صحیح ثابت کریں؛ یہ اہل سنت کی اکثریت کا عقیدہ ہے۔

دوسری رائے یہ ہے کہ اگرچہ صحابہ کے درمیان کئی بزرگ اور اسلام کے لئے قربانیاں دینے والی شخصیات، متقی اور پرہیزگار اور پاک و پاکیزہ افراد موجود تھے مگر منافق اور غیر صالح افراد بھی ان کے درمیان پائے جاتے تھے، جن سے قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بیزاری و برائت کا اعلان کرتے رہے ہیں۔

بالفاظ دیگر ہم جن معیاروں کو اچھے اور برے افراد کی پہچان کے لئے بروئے کار لاتے ہیں صحابہ کے بارے میں ان ہی معیاروں کو بروئے کار لانا چاہئے۔ یہ الگ بات ہے کہ یہ لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ تھے۔ لہذا انہیں کلی طور پر ابتداءً نیک و صالح تصور کرتے ہں لیکن حقائق سے ہرگز چشم پوشی نہیں کرتے اور عدل و انصاف اور صداقت و سچائی کے منافی اعمال کو ہرگز نظر انداز نہیں کرتے۔ کیونکہ ایسا کرکے ہم درحقیقت اسلام اور مسلمانوں کو شدیدترین صدمہ پہنچائیں گے اور اسلام کے قلمرو میں منافقین کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گآ۔

اہل تشیع اور بعض روشن خیال اہل سنت مفکرین نے اس روش کی پیروی کی ہے۔

2۔ تنزیہ کے قائل تشدد پسند اور انتہاپسند گروہ

تنزیہ صحابہ کے قائل افراد میں سے ایک گروہ نے یہاں تک تندروی اور افراط و انتہاپسندی کا راستہ اپنایا ہے کہ جب بھی کوئی شخص اصحاب تنقید کے لئے کھولتا ہے، اسے فاسق، ملحد اور زندیق جیسے القاب سے نواز دیتے ہیں یا پھر ان کا قتل مباح کردیتے ہیں!!

مثال کے طور پر کتاب "الاصابۃ" میں "ابوزرعہ" سے منقول ہے کہ: جب بھی تم کسی شخص کو اصحاب پیغمبر (ص) میں سے ایک پر اعتراض کتے ہوئے دیکھو جان لو کہ وہ زندیق ہے کیونکہ رسول اللہ (ص) حق ہیں اور قرآن حق ہے اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ساتھ لائے ہیں، حق ہے اور یہ سب کچھ صحابہ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے؛ اور یہ (مخالفین!) ہمارے شاہدوں اور گواہوں کو بے اعتبار کردینا چاہتے ہیں اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں تا کہ کتاب و سنت ہمارے ہاتھوں سے نکل جائیں!۔ (1)

"عبداللہ الموصلی" اپنی کتاب "حتی لاننخدع" میں لکھتا ہے: صحابہ ایسا گروہ ہیں جن کو خدا نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ  و سلم کی مصاحبت ، دین کی برپائی اور شرع کے قیام کے لئے منتخب کیا تھا اور انہیں "اپنے نبی (ص) کے لئے وزیر قرار دیا تھا جبکہ ان کے دشمنی کو کفر و نفاق قرار دیا ہے! (2) [عبداللہ موصلی کہتا ہے:) حالانکہ ہم ثابت کریں گے کہ الموصلی کا یہ دعوی کتاب و سنت کی صریح خلاف ورزی پر مبنی ہے۔

3۔ وہ سوالات تشنہ جواب ہیں

یہاں ہر عاقل و منصف شخص، جو کسی کی بات کو بھی دلیل کے بغیر آنکھیں اور کان بند کرکے قبول نہیں کرتا، ایسا دعوی سن یا پڑھ کر اپنے آپ سے ذیل کے سوالات ضرور پوچھے گا:

خداوند متعال قرآن مجید میں زوجات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:

"يَا نِسَاءَ النَّبِىِّ مَنْ يَأْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَة مُّبَيِّنَة يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ يَسِيراً"۔ (3)

ترجمہ: اے زوجات رسول (ص)! جو تم میں سے کسی نمایاں جرم کا ارتکاب کرے گی، اسے دہری سزا دی جائے گی اور یہ بات اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔

صحابہ کو ہم جس طرح بھی متعارف کرائیں (4)، بے شک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ کا آشکار ترین اور قریب ترین مصداق آپ (ص) کی ازواج ہیں، قرآن مجید فرماتا ہے کہ نہ صرف ان کے گناہوں کو نظر انداز نہيں کیا جائے گا بلکہ ان کی سزا دہری ہوگی۔  اب آپ قاری محترم بتائیں کہ ہم اس آیت کے سامنے سر تسلیم خم کریں یا پھر غیر مشروط تنزیہ کے حامیوں کی بات مانیں؟ (5)

نیز قرآن مجید شیخ الانبیاء حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے کے گناہوں کی وجہ سے اس کے بارے میں فرماتا ہے: "إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِح"۔ (6)

ترجمہ: وہ نا صالح عمل کرنے والا ہے۔

خداوند متعال یہ جملہ ارشاد فرمانے کے بعد فرماتا ہے اور حضرت نوح علیہ السلام کو متنبہ کرتا ہے کہ کہیں اس کی شفاعت نہ کریں!۔

کیا پیغمبر کا فرزند زیادہ اہم ہے یا اس کے دوست اور اصحاب؟

اور دو عظیم پیغمبروں نوح اور لوط علیہما السلام کے بارے میں فرماتا ہے:

"فَخَانَتَاهُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللهِ شَيْئاً وَقِيلَ ادْخُلاَ النَّارَ مَعَ الدَّاخِلِينَ"۔ (7)

تو انھوں نے (یعنی نوح اور لوط کی بیویوں نے) ان سے غداری اور خیانت کی (اور ان کے دشمنوں سے تعاون کیا) پس وہ دونوں (حضرت نوح اور حضرت لوط) ان کی شفاعت کرکے ان کو عذاب الہی سے نہ بچا سکے اور ان سے کہا گیا کہ داخل ہو جاؤ دونوں آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ۔

کیا یہ آیات وضاحت کے ساتھ نہیں کہہ رہی ہیں کہ افراد کی اچھائی اور برائی کا معیار ایمان و عمل ہے؟ اور حتی کہ پیغمبر کا بیٹا یا اس کی بیوی ہو کر بھی، بدعملی کی صورت میں دوزخ کی آگ سے بچنا ناممکن ہے۔

ان حقائق کے باوجود، کیا یہ صحیح ہے کہ ہم اپنی آنکھیں بند کریں اور (منہ کھول دیں اور) کہنا شر