اہل البیب (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آج برسلز میں مختلف مکاتب فکر کر پیروکار ہزاروں مسلمانوں سمیت دیگر آسمانی ادیان کے پیروکاروں نے بلجيئم کے دارالحکومت برسلز میں وسیع مظاہرے کرکے شیعہ عالم دین، مسجد امام رضا علیہ السلام کے امام جماعت اور امام رضا (ع) دینی و تعلیمی مرکز کے سربراہ حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ پر دہشت گردوں اور تشدد پسند جماعتوں کے حملے کی پرزور الفاظ میں مذمت کی۔مظاہرین نے ریلیوں اور مظاہروں کے بعد اندرلخت (Anderlecht) کونسل کی عمارت کے سامنے اجتماع کیا اور کلام اللہ مجید کی تلاوت کی روح انگیز صدا نے اس اجتماع کو ایک معنوی ماحول فراہم کیا۔اجتماع کے مہتممین نے یادآوری کرائی کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری بلجیئم کی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور اس کو مستقبل میں ایسے واقعات دہرائے جانے کے حوالے سے خبردار کیا۔بلجیئم کی مسلم کمیونٹی کی ایکزیکٹو کونسل کی معاون سربراہ محترمہ ایزابل سمیہ برائل، نے ریلی کے موقع تر کہا: دینی تعصبات پر مبنی دہشت گردی یا دائیں بازو کے انتہاپسند عناصر کی دہشت گردی، نے آج بلجیئم میں پرامن بقائے باہمی کی تمام قدروں کو اپنے نشانے پر لیا ہوا ہے۔مظاہرین نے شہید حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ کی بڑی بڑی تصویریں اٹھا رکھی تھیں جو عرصہ دراز سے مسجد امام رضا علیہ السلام کے امام جماعت تھے۔ریلیوں کی انتظامی کمیٹی کے رکن "العیاشی بوتمزین" نے کہا: ہمیں بلجیئم کی عدلیہ سے توقع ہے کہ اس حادثے کے سلسلے میں شفاف تحقیقات کرائے اور جلد از جلد ان تحقیقات کے نتائج کا اعلان کرے۔ مظاہرے میں مختلف ممالک کی شخصیات اور راہنماؤں نیز علمائے دین کی تقاریر، اور بلجیئم کی حکومت کی طرف سے انجام پانے والے مناسب حفاظتی اقدامات سے معلوم ہوتا تھا کہ گویا بلجیئم کی حکومت اور عدلیہ نے عوامی توقعات اور مطالبات کو بخوبی سمجھ لیا ہے۔ پاکستانی عالم دین "سید انیس شیرازی" نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آج پوری دنیا مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ ڈالنے کے درپے ہے لیکن ہم خدا پر توکل کرکے ان سازشوں کو ناکام بنا کر وحدت و یکجہتی کو قائم کریں گے۔بحرینی عالم دین "شيخ جواد دمستاني" نے کہا: مسجد کو نذر آتش کرنا اور امام جماعت کا خون بہانا، حقیقتاً ایک بہت عجیب اقدام ہے جو اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ دینی شخصیات اور شہید عالم دین حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ کے شاگردوں کے خطابات حاضرین میں جوش و خروش کا سبب بنیں اور مجموعی صورت حال سے بوضوح معلوم ہوتا تھا کہ مذکورہ جرم یورپ کے مسلمانوں کی تشویش کا سبب بن گیا ہے اور مسلمانوں کی فکرمندی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ایک مقرر "يارا مغنيہ" نے کہا: دہشت گردی کی اس کاروائی کا ہدف تفرقہ اور انتشار پھیلانا ہے لیکن ہم اس عظیم ریلی اور اجتماع کا انعقاد کرکے دشمنوں کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ ہم مسلمانوں کے درمیان انتشار ڈالنے کی سازش میں ناکام ہوجائیں گے۔ شہید حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ کی میت بلجیئم سے مراکش کے شہر "طنجہ" منتقل کی جائے گی جہاں انہيں سپرد خاک کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ شہید حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ کے والدین کا تعلق مراکش سے تھا اور وہ خود بلجیئم میں پیدا ہوئے تھے۔ ۔۔۔۔۔۔/110
برسلز کے امام جماعت تکفیریوں کے حملے میں شہید / باتصویر
برسلز کے امام جماعت کے قتل پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا مذمتی بیان
برسلز کے شہید عالم دین کی مختصر سوانح حیات
مسجدامام رضا (ع) پر حملے کے محرکات، نئی تفصیلات
علمائے اہل بیت (ع) یورپ کا بیان؛ وہابیوں کے لئے مسجد اور مقدس مقامات کا تقدس اہمیت نہیں رکھتا