ابنا: دھماکہ نماز جنازہ کے اجتماع ميں کيا گيا. پشاور کے نواحي علاقے بڈھ بيرميں خودکش حملہ اس وقت کيا گيا جب ايک مقامي خاتون کي تدفين کي جا رہي تھي. ڈپٹي اسپيکر خيبر پختونخوا اسمبلي خوشدل خان بھي نماز جنازہ ميں شريک تھے. نماز کے بعد ميت تدفين کے لئے جونہي اٹھائي گئي جنازہ گاہ ميں دھماکہ ہوا جس سے انساني اعضاء ہر طرف بکھر گئے. دھماکے بعد پوليس اور امدادي ٹيميں جائے وقوعہ پہنچيں اور امداي کاروائيوں کا آغاز کيا گيا. دھماکے ميں 15 افراد جاں بحق اور30 سے زائد زخمي ہوئے. زخميوں کو ليڈي ريڈنگ اسپتال پہنچايا جہاں 5 کي حالت تشويشناک ہے. پوليس کے مطابق دھماکہ خود کش تھا. جس ميں 8 کلو گرام بارودي مواد استعمال کيا گيا. پوليس کے مطابق دھماکے کي جگہ سے خود کش جيکٹ کے ٹکڑے اور بال بيرنگزاور خود کش حملہ آور کے جسماني اعضاء بھي ملے ہيں.اس سے قبل پشاور کے نواحي علاقہ اديزئي ميں بھي ايک خاتون کي نماز جنازہ کے دوران دھماکہ کياگيا تھا. جس ميں چاليس سے زائد افراد لقمہ اجل بنے. صوبائي حکومت نے بڈھ بير دھماکے ميں جاں بحق افراد کے لواحقين کوتين لاکھ اور زخميو ں کيلئے ايک، ايک لاکھ روپے امداد کا اعلان کيا ہے........./169
10 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302074
پشاور …پشاور کے علاقے بڈھ بير ميں خودکش حملے ميں15فراد جاں بحق اور30 سے زيادہ افرادزخمي ہوگئے.