ابنا: چین کے صدر ہوجین تاؤنے کل اپنے ملک کی پارلیمنٹ کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ایک سیاسی وفد کے ہمراہ تبت کا دورہ کرتے ہوئے اس علاقے کے استحکام کے تحفظ پر تاکید کے علاوہ اس صوبے کی یکجہتی کے تحفظ کو حکومت کے آئندہ سال کے پروگراموں میں شامل قرار دیا۔ علیحدگی پسندی کا مقابلہ اور چین کی ارضی سالمیت کے تحفظ کیلئے پالیسیاں اپنانا چینی پارلیمانی نمائندوں کے سالانہ اجلاس کے اہم ترین پروگراموں میں شامل ہے۔ تبت کے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور اس علاقے میں دلائی لاما کے طرف داروں میں سے ایک تعداد کی جانب سے خود سوزی کے عمل نے بیجنگ کی حکومت کی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔اسلئے کہ چینی حکومت کا خیال ہے کہ تبت کی کشیدگی اور وہاں ہونے والے حالیہ احتجاجات میں بیرونی عناصر منجملہ سی آئي اے کے ہاتھہ کار فرما ہیں۔ اگر چہ تبت کے مذہبی راہنما دلائی لاما نے اس علاقے میں ہونے والے احتجاجات کو تبت کے عوام کی مذہبی رسومات پر حکومت کی پابندی کے خلاف عوام کے جذباتی اقدامات سے تعبیر کیا ہے اور اپنے غیر ملکی دوروں منجملہ یورپ و امریکہ کے ملکوں کے راہنماؤں سے ہونے والی ملاقاتوں میں بیجنگ کی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے تاہم چینی حکام کا کہنا ہے کہ دلائی لاما کے طرف دار علیحدگی پسند گروہ تبت میں سازشیں اور اس علاقے میں کشیدگی و بد امنی پھیلاکر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چین میں واقع فلات کا علاقہ جو وسطی ایشیاء کا حصہ شمار ہوتا ہے اس وقت چین میں تبت کا ایک ایسا اہم ترین علاقہ ہے کہ جس کا کچھہ حصہ ہندوستان میں بھی واقع ہے اور یہ علاقہ سترھویں صدی سے سنہ 1959 تک تبت کے مذہبی راہنماؤں کا ایک مرکز بنا رہا ہے جہاں دلائی لاما خاندان کے راہنما حکومت کرتے رہے ہیں۔ مگر اس کے بعد سے تبت،چین کی حکمرانی میں چلا گیا اور پھر تبت میں چین کی حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے کی بناء پر دلائی لاما کو ہندوستان جلا وطن ہونا پڑا۔ ہندوستان میں دلائی لاما تبت کی جلا وطن حکومت تشکیل دیکر اس علاقے پر چین کی حاکمیت کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں اور حالیہ برسوں کے دوران انھوں نے حکومت چین کے خلاف اپنی سرگرمیاں تیز بھی کردی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کو کنٹرول کرنے کیلئے امریکہ کی پالیسی اور دنیا کے حساس علاقوں میں چین کو اپنی مداخلت پسندانہ پالیسیوں کا ہمنوا بنانے کیلئے مغرب کا دباؤ اس بات کا باعث بنا ہے کہ وہ دلائی لاما اور ان کے حامیوں کو ایک ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کریں۔ جیساکہ یورپ وامریکہ کی حکومتیں تبت کے عوام کو ورغلاکر اور اس علاقے کے مذہبی راہنما دلائی لاما کی حمایت کرکے چین پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کررہی ہیں۔ جبکہ چین کی حکومت دلائی لاما کوایک مذہبی راہنما کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی لیڈر کی حیثیت سے دیکھتی ہے جو بعض مغربی ملکوں کی حمایت سے چین میں عدم استحکام اور اس کے حصے بخرے کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔سیاسی ماہرین، ایسے بڑے ملکوں کے بارے میں امریکہ کی پالیسی کے پیش نظر کہ جن کو وہ تقسیم کرنے کی کوشش میں ہے یہ باور کرتے ہیں کہ اس وقت سین کیانگ اور تبت جیسے خود مختار علاقے بھی چین کو غیر مستحکم کرنے کیلئے مغربی ملکوں کا اہم ترین ذریعہ بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کی حکومت نے آئندہ برس اپنے ملک کے دور افتاده علاقوں کے استحکام و فروغ پر توجہ اور سین کیانگ اور تبت کے مقامی حکام سے ملاقاتوں میں ان علاقوں میں امن و استحکام کی برقراری پر زور دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چین کے خود مختار علاقوں میں علیحدگی پسندی اور بیرونی مداخلت کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو آمادہ رکھیں۔ دوسری جانب حکومت چین نے بارہا امریکہ میں تشکیل پانے والی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماضی کی اپنی غلطیوں کی اصلاح کرتے ہوئے دلائی لاما کے ساتھہ ملاقات کے پروگرام منسوخ کریں۔ چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ امریکہ، چین میں مداخلت کرنا بند کرے۔ تبت کے جلاوطن راہنما دلائی لاما نے جارج بش کے دور اقتدار میں کہ جن کی جنگ پسندانہ پالیسیاں ہمیشہ سیاسی لیڈروں کی تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہیں امریکی کانگریس کے اجلاس کی تشکیل کے مقام پر ایک تقریب میں جس میں جارج بش بھی شریک تھے امریکی کانگریس کا گولڈن ایوارڈ جو امریکہ میں سب سے بڑا غیر فوجی ایوارڈ شمار ہوتا ہے حاصل کیا تھا۔......./169
10 مارچ 2012 - 20:30
News ID: 302056
چین کے صدر ہوجین تاؤ کا، ایک سیاسی وفد کے ہمراہ تبت کا دورہ اور اس علاقے کے سیاسی و سماجی استحکام کے تحفظ پر ان کی تاکید تبت کی موجودہ صورت حال پر چین کی تشویش ظاہر کرتی ہے۔