6 مارچ 2012 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے مغربی ممالک کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات کی تجویز کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مغربی ممالک مذاکرات میں دھمکی اور دباؤ کی پالیسی پر عمل کریں گے تو اس سے کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا کیونکہ ایران دھمکی کے ذریعہ اپنے حقوق سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔

ابنا: لاریجانی نے جہاد اقتصادی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی علاقہ میں ایک اہم اور ممتاز پوزیشن ہے ایران  اپنےگیس اور تیل کے ذخائر کےساتھ علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پیشرفت و ترقی کی جانب گامزن ہے جو ایران کے قوی نقاط میں شامل ہے انھوں نے کہا کہ ایران کی ناخالص درآمد تقریبا 800 ارب تومان ہے  اور اگراس کو ہی بنیاد قراردیں تو ایران دنیا کے پہلے  20 ممالک کی صف میں شامل ہے۔

لاریجانی نے ایران کے ایٹمی معاملے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ  مغربی ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش میں نہیں ہے لیکن وہ اس موضوع کو بہانہ بنا کر ایران کی علمی پیشرفت و ترقی کو روکنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئي اسلامی ملک پیشرفت اور ترقی حاصل کرکے اسلام کو نمونہ کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرے لاریجانی نے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ایرانی قوم کے حقوق کو مد نظر رکھنا چاہیےکیونکہ ایران اپنے قومی اور ملکی حقوق سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹےگا۔....... /169