اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق دبئی کے پولیس چیف "ضاحی الخلفان" نے کہا ہے کہ وہ بہت جلد قطر کے مفتی یوسف القرضاوی کی گرفتاری کے احکامات جاری کررہے ہیں کیونکہ شیخ نے حکومت کے شام کے مخالفین کو امارات سے نکال باہر کرنے پر امارات کے حکام کے خلاف موقف اختیار کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ شیخ یوسف قرضاوی گمراہانہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جس کی بنا پر ان کا امارات میں داخلہ ممنوع ہے۔انھوں نے کہا: آنے والے دنوں میں القرضاوی کی گرفتاری کے احکامات جاری کئے جائیں گے اور انٹرپول کے ذریعے ان کی گرفتاری کے لئے کوشش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت شام کے مخالفین کے 100 خاندانوں کو امارات میں غیر قانونی جلوس نکالنے پر، اس خلیجی ریاست سے نکال باہر کیا گیا ہے جس پر قطر کے متنازعہ سرکاری مفتی جناب قرضاوی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ امارات کے حکام کو قیامت کی سزائیں برداشت کرنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔یاد رہے کہ جب سے 33 روزہ جنگ میں حزب اللہ نے اسرائیل کو شکست دی ہے القرضاوی ـ جو کسی زمانے میں اتحاد بین المسلمین کے داعی سمجھے جاتے تھے ـ اپنا سیاسی اور دینی توازن کھو بیٹھے ہیں اور اس وقت شام کے دہشت گردوں کو فوجی امداد پہنچانے کے زبردست حامی اور شام کے خلاف امریکی ـ اسرائیلی ـ عربی اتحاد کو دینی پشت پناہی فراہم کرنے کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔شیخ قرضاوی جو شام میں اسرائیلی فتنے کی حمایت کرتے ہیں بحرین کے عوامی انقلاب کو حکمران اقلیت کے خلاف محروم شیعہ اکثریت کا فرقہ وارانہ فتنہ قرار دیتے ہیں۔ وہ ایک طرف سے 33 روزہ جنگ کے بعد دنیائے عرب نوجوانوں کے تشیع کی جانب رجحان کو سنی ممالک میں شیعہ تبلیغات کا نتیجہ قرار دے کر علاقائی کیمپین چلاتے نظر آرہے تھے اور دوسری طرف سے شیعہ ملک بحرین پر اقلیت کی حکمرانی کو نہ صرف جائز قرار دیتے ہیں بلکہ اس کے خلاف عوامی احتجاج کو ناجائز قرار دے رہے ہیں اور آل خلیفہ خاندان کو احتجاجی نوجوانوں کے قتل عام کی ہدایات دے رہے ہیں!۔القرضاوی کے غیر متوازن اور عجلت زدہ فتووں کے باعث انہیں ان دنوں حتی کہ اپنے حامی وہابی مفتیوں کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔القرضاوی نے شام میں اسرائیل نواز دہشت گردوں کی حمایت کے لئے ایک متنازعہ فتوی جاری کرتے ہوئے حال ہی میں کہا ہے کہ مسلمان اپنی زکواة شام حکومت کے مخالفین کے لئے ارسال کیا کریں!شیخ القرضاوی امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بہنوئی ہیں اور ان کے موقف کے ساتھ ساتھ ان کا موقف بھی تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اگر ایک طرف سے شیخ حمد کو تیل اور گیس کے ذخائر سے حاصل ہونے والی دولت اور 12 ہزار امریکی فوجیوں کی حمایت حاصل ہے تو دوسری طرف سے ٹی وی چینل الجزیرہ اور شیخ القرضاوی بھی اس کو دینی اور ابلاغی حمایت دے رہے ہیں۔ادھر مصر کے شیعیان اہل بیت (ع) نے بھی قطر کے مصری نژاد مفتی القرضاوی کے حالیہ اقدامات پر زبردست تنقید کی ہے۔مصر کی "آل البیت (ع) ایسوسی ایشن" کے سیکریٹری جنرل "طاہر الہاشمی" نے سلفی مولویوں نیز قطر میں مقیم مصری مفتی شیخ القرضاوی کی طرف سے مصر اور دوسرے عرب ممالک میں فرقہ واریت کو ہوا دینے کی سازشوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلفی مولوی اور القرضاوی عرب ممالک میں مذہبی فتنہ انگیزی کے اصل مجرم ہیں۔الہاشمی نے زور دے کر کہا: مصر سمیت دوسرے اسلامی ملکوں اور مسلم اقوام میں مذہبی فتنہ انگیزی ـ جو اس وقت مصر میں اس ملک کے سلفیوں کے ایجنڈے میں شامل ہوئی ہے ـ پیشگی منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کے تحت اسلامی مذاہب نیز مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی جارہی ہے۔ الہاشمی نے کہا: القرضاوی وقتا فوقتا صہیونی ریاست کے مفادات کی بنیاد پر دعوتیں دے رہے ہيں اور مسلمانوں اور عربوں کو صہیونیوں کے لئے قربان کررہے ہیں چنانچہ ان پر فوری طور پر مقدمہ چلایا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا: القرضاوی شام کے مخالفین کو مسلح کرنے کی دعوتیں کیونکر دے رہے ہیں جبکہ بحرین میں ہزاروں افراد کو نشانہ بناکر شہید اور زخمی کیا جارہا ہے اور وہ اس قتل پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ہم تمام مسلمانوں کی حمایت اور تمام مسلمانوں کے خون کے تحفظ کے خواہاں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
/110
خالد مشعل : إتق اللہ يا شيخ القرضاوي :- خدا کا خوف کرو یا شیخ القرضاوی