1 مارچ 2012 - 20:30

امريکي وزارت توانائي نے کہا ہے کہ ايران کے تيل پر پابندي اور اسے عالمي منڈي سے دور رکھنے سے تيل کي سپلائي اورمانگ کے درميان فاصلہ چھے گناہ ہو جائے گا۔

ابنا: امريکہ کي وزارت توانائي نے کہا ہے کہ ايراني تيل کو عالمي منڈي سے ہٹانے سے ايندھن کي سپلائي اور  مانگ کے درميان فاصلہ تيس لاکھ بيرل ہر دن ہو جائے گيا اور ايندھن کي کمي چھے گنا زيادہ ہو جائے گي - تيل کے معاملات  کے ماہر تھروور ھيسر کا کہنا ہے کہ امريکہ کي وزارت توانائي کي جانب سے اس اعلان سے يہ پتہ چلتا ہے کہ تيل کي عالمي منڈي ميں حالات کس قدر بحراني ہو چکے ہيں -

بلومبرگ ٹي وي کي اس رپورٹ کے مطابق امريکي وزارت توانائي نے بتايا ہے کہ رواں سال کے  ابتدائي دو مہينے ميں  گزشتہ برس کي بہ نسبت اوپک کي فاضل تيل کي پيداوار کي  توانائي ميں تينتيس فيصد کمي واقع ہوئي ہے - يہ رپورٹ ايسي حالت ميں پيش کي جا رہي ہے کہ جب امريکي صدر باراک اوباما کے پاس صرف ايک مہينے کا وقت ہے جس کے دوران وہ امريکہ کي وزارت توانائي کي رپورٹ کے بنا پر اس سلسلے ميں فيصلہ کريں گے کہ عالمي بازار ميں ايراني تيل کي عدم موجودگي کي صورت ميں کيا ايران کے تيل کي کمي کو پورا کرنا ممکن ہے يا نہيں - اس تجزيہ نگار کا کہنا ہے کہ ايران کے خلاف صيہوني منصوبوں پر عمل در آمد کے لئے شديد دباؤ کے شکار اوباما  نے ، ايران کے تيل پر پابندي لگاکر جس کے نتيجے ميں ان کے ملک ميں پيٹرول اور پيٹروکيمکل اشياء کي قيمتوں ميں اضافہ ہو گيا ہے ، سن دو ہزار بارہ کے اہم صدارتي انتخابات کے موقع پر اپني حکومت کے زوال کے عمل کو مزيد تيز کر ديا ہے۔.......

/169