28 فروری 2012 - 20:30

ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی میں ایران کےنمائندے علی اصغرسلطانیہ نےتہران میں آئي اے ای اے کےوفد کےکام میں روکاوٹ ڈالنے کےدعوؤں کو مسترد کرتےہوئےکہاہےکہ جو وفد بھیجاگیاتھا وہ انسپکٹروں کانہيں بلکہ آئي اے ای اے کےتکنیکی ، سیاسی اورقانونی شعبے کےاعلی حکام سےتشکیل یافتہ وفدتھا جس کامقصد مذاکرات کرناتھا۔

ابنا: علی اصغرسلطانیہ نے روس کےرشاٹوڈے ٹی وی چینل کوانٹرویودیتےہوئے اس سوال کےجواب میں کہ آئی اے ای اے کےوفد کو مشرقی تہران میں واقع پارچین فوجی اڈے کامعائنہ کرنےکی اجازت کیوں نہيں دی گئي کہاکہ تہران میں اس وفد کا کام ایران اورآئی اےای اے کےدرمیان آئندہ تعاون کی ماہیت اوردائرہ کار معین کرناتھا۔

علی اصغرسلطانیہ نےکہاکہ دنیا کےتمام ملکوں کےاپنےقانون ہيں اور جس کی آئي اے ای اے کوپیروی کرنی چاہئے اورایران کسی کوبھی پارچین سمیت کسی بھی فوجی اڈے کامعائنہ کرنےکی اجازت نہيں دےگا۔

علی اصغرسلطانیہ نے اس بات پرتاکیدکرتےہوئے کہ ایران ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کےساتھ مذاکرات جاری رکھنے پرتیار ہےکہاکہ بےبنیاد الزامات لگاناالگ بات ہے لیکن اسلامی جمہوریہ ایران نےآئ اے ای اے کےوفد کوتہران کادورہ کرنےکی دعوت دے کرایک تاریخی امتیاز حاصل کیاہے۔....... /169