اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الجنادریہ کے آثار قدیمہ کے عنوان سے منعقدہ ستائیسویں سالانہ میلے میں ہونے والے بعض اعمال و افعال سعودی علماء کے شدید رد عمل کا سبب بن گئے ہیں۔ سعودی عرب کی مذہبی پولیس نے الجنادریہ میلے کو "نائٹ کلب" (Night Club) قرار دیا۔
میلے کے انتظامات بادشاہ عبداللہ کے بیٹے اور وزیر داخلہ متعب بن عبداللہ کے ہاتھ میں ہیں اور انھوں نے سعودی عرب کے چینل 1 کو انٹرویو دیتے ہوئے سعودی علماء کے الزامات کو مسترد کیا اور انہیں نہایت سخت لہجے میں سرکاری معاملات میں مداخلت سے منع کرتے ہوئے کہا: دینی پولیس کے بعض اہلکاروں نے الجنادریہ فیسٹیول کو نائٹ کلب سے تشبیہ دی ہے جس میں بہت ساری خلاف ورزیاں ہوئی ہیں لیکن ان کا یہ دعوی غلط ہے اور ہم نیشنل گارڈ کی حیثیت سے ایسے اعمال کو ہرگز قبول نہیں کرتے۔
انھوں نے کہا: ہم نے دینی پولیس کے 40 اہلکاروں کو حراست میں لیا ہے اور ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ وہ ان محافل سے بے خبر تھے اور انھوں نے محض فتنہ انگیزی کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ بعض علماء نے تحقیق کئے بغیر ان الزامات کو درست تسلیم کیا حالانکہ انہیں پہلے اس بارے میں تحقیق کرنی چاہئے تھی۔
واضخ رہے کہ سعودی عرب کے سینئر وہابی علماء شیخ عبدالرحمن بن ناصر البرک اور شیخ ناصرالعمر کی سرکردگی میں 50 علماء نے گذشتہ ہفتے اپنے مشترکہ بیان میں الجنادریہ فیسٹیول 2012 میں رونما ہونے والے فسق و فجور اور لہو و لعب پر مبنی واقعات اور شبانہ محفلوں میں عورتوں اور مردوں کے اختلاط نیز دینی پولیس کے اہلکاروں کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ الجنادریہ میلہ اور نمائش کتب کو فوری طور پر بند کردیا جائے۔
سعودی علماء نے کہا: الجنادریہ میلے میں شرعی احکام اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزي ہورہی ہے جن میں مرد اور عورتیں شریک ہوتی ہیں جو عقل و شرع کے خلاف ہے اور اس سے بھی زیادہ بری بات یہ ہے کہ بعض سرکاری عہدیداروں نے شریعت کی خلاف ورزی کے واقعات کی تردید کی ہے اور دینی پولیس کے اہلکاروں کو گرفتار کرلیا ہے۔
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش