ابنا: گزشتہ روز ایک صہیونی اخبار "یدیعوت احارونوت" نے اس بارے میں لکھا کہ مزدوروں کی ہڑتال نے "ایلات" "اشدود" اور "حیفا" میں بندرگاہوں پر تمام کام کاج کو مفلوج کر دیا ہے۔
صہیونی اخبار "یدیعوت احارونوت" کے مطابق اگر ہڑتال کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اس سے اسرائیل کے اقتصاد اور معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچے گا۔
گزشتہ چند ہفتوں میں اسرائیل میں اس طرح کی اور بھی ہڑتالیں ہوئیں جن کی وجہ سے سوشل سروسز بری طرح متاثر ہوئیں۔
مقبوضہ فلسطین میں جاری رہنے والی ہڑتالوں نے کہ جن کی وجہ سے صہیونی ریاست کے مختلف دفتری اور اقتصادی شعبوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا اور ان کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، عملی طور پر اس حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
درحقیقت گزشتہ چند مہینوں سے مقبوضہ فلسطین میں ہونے والی ہڑتالیں صہیونی ریاست سے شہریوں کی بے انتہا ناراضگي اور بڑھتے ہوئے داخلی اعتراضات کو ختم کرنے میں حکومت کے اعلی حکام کی عاجزی و ناتوانی کو ظاہر کرتی ہیں۔
صہیونی ریاست میں وسیع پیمانے پر ہونے والی ہڑتالوں اور اعتراضات نے دنیا والوں کو اس جعلی حکومت کے سنگین اندرونی حالات سے آگاہ کر دیا ہے۔
ان مسائل نے پہلے سے زیادہ صہیونی حکام کے ان جھوٹے اور بےبنیاد دعووں کو واضح و آشکار کر دیا ہے جو جھوٹے پروپیگنڈوں کے ذریعے مقبوضہ فلسطین کی طرف ہجرت کے لیے مقبوضہ فلسطین کو یہودیوں کے لئے بہشت موعود قرار دینے کی کوشش کر رہے تھے۔
صہیونی ریاست کے داخلی حالات کا جائزہ لینے کے بعد کہا جاسکتا ہے کہ اس وقت یہ حکومت مختلف قسم کی داخلی مشکلات سے دوچار ہے۔
صہیونی ریاست میں موجود وسیع پیمانے پر مالی و اخلاقی بدعنوانی، اس حکومت کا اپنے شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک، اس حکومت میں وسیع اقتصادی بحران اور شہریوں کے درمیان طویل طبقاتی فاصلے، ان مسائل و مشکلات کا صرف ایک حصہ ہے کہ جن کا اس وقت صہیونی معاشرے کو سامنا ہے۔
ان تمام باتوں سے مقبوضہ فلسطین سے یہودیوں کی دوبارہ دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت میں تیزی آ گئي ہے اور عملی طور پر اس سے جعلی صہیونی ریاست کو درپیش آبادی کے بحران میں شدت آ گئي ہے۔
یہ ایسے حالات میں ہے کہ صہیونی ریاست کے اعلی حکام اپنی تشویشناک صورت حال سے
لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے اپنی قدرت و طاقت کا مظاہرہ کر کے اندر سے کھوکھلی اس حکومت کو مضبوط اور پائیدار ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
صہیونی ریاست اپنے جنگ پسندانہ اور توسیع پسندانہ اقدامات کے لئے بےشمار فنڈ مخصوص کرنے کی وجہ سے مغرب کی طرف سے ملنے والی کثیر مدد کے باوجود ہمیشہ شدید اقتصادی مشکلات اور بجٹ خسارے کا شکار رہی ہے۔
در حقیقت صہیونی ریاست اس وقت پیچیدہ مشکلات کا شکار ہے جنہوں نے اس حکومت کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے۔
صہیونی ریاست اس وقت جس بدترین اور تشویش ناک صورت حال سے دوچار ہے وہ اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ صہیونی ریاست کا بڑھ بڑھ کربولنا ،دھمکیاں دینا اور اپنی قدرت و طاقت کا اظہار کرنا مکروفریب اور دھوکے کےعلاوہ کچھ نہیں ہے اور یہ حکومت اس وقت اتنی لاچار اور ناتواں ہے کہ جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
........
/169