اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایک سعودی شہزادے عبداللہ بن عبدالعزیز کے بھائی طلال بن عبدالعزیز نے قاہرہ میں اپنی رہائشگاہ پر عرب شخصیات کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے قطر کی اسرائیل نواز اور سعودی و شام مخالف پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ کہ قطر کا حکمران خاندان "آل ثانی" عربوں اور فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی پالیسیوں پر عملدرآمد کررہا ہے اور آل ثانی خاندان اگلے مرحلے میں ایک فوری اقدام کے ذریعے سعودی عرب کو تقسیم کرکے آل سعود کو مکہ اور مدینہ پر مشتمل چھوٹے سے ملک میں محصور کرے گا اور سعودی عرب کا ایک بڑا حصہ اردن کے حوالے کیا جائے گا تا کہ فلسطین سے نئے نکالے جانے والے پناہ گزینوں کو وہیں بسایا جاسکے۔
طلال نے کہا: امریکہ نے سعودی عرب کی تقسیم منصوبہ بنایا ہے اور اس نے قطر کو عرب دنیا کے قلب میں اپنے چیلے کے طور پر متعین کیا ہے تا کہ سعودی عرب میں امریکی منصوبوں پر عملدرآمد کرے اور یہ کہ امریکہ سعودی عرب کی ارضی سالمیت کی ہرگز حمایت نہیں کرے گا۔
طلال نے کہا کہ آل سعود اور اسرائیل کے سیکورٹی عہدیداروں کے درمیان قریبی روابط پائے جاتے ہیں اور وہ علاقے کے ممالک خاص طور پر فلسطین اور شام کے خلاف مل کر سازشیں تیار کرتے ہیں تا کہ سعودی عرب کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران دشمنی میں ہراول دستے کے سپاہی کے طور پر آگے بڑھایا جاسکے۔
انھوں نے کہا: میں نے خلیج فارس تعاون کونسل کے کئی رکن ممالک کو قطر کی سعودی مخالف سازشوں سے مطلع کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ طلال بن عبدالعزيز خود، اور اپنے پانچ بھائیوں کو سعودی ولیعہدی کے حقدار سمجھتے ہیں، لہذا انھوں نے قاہرہ میں ایک بار پھر نائف بن عبدالعزیز کی ولیعہدی کی مخالفت کی ہے۔
انھوں نے "المصریہ نیٹ ورک" کے تحریری بورڈ کے ساتھ رابطہ کرکے حال ہی میں ہونے والے مصری پارلیمانی انتخابات کی تعریف کی اور کہا کہ وہ بہت جلد سعودی بیعت بورڈ سے اپنے استعفے کے اسباب کا اعلان کریں گے۔
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ طلال نے شام کی حمایت اور شام کے خلاف نیٹو اور سعودی عرب کی سازشوں پر تنقید کرکے عرب ممالک میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔
واضح رہے کہ طلال بن عبدالعزيز نے نائف بن عبدالعزيز کی ولیعہدی کے تین ہفتے بعد سعودی بیعت بورڈ سے استعفا دیا تھا۔
دریں اثناء طلال بن عبدالعزیز نے بعدازاں، غالبا سعودی اور مصری حکام کی دھمکیوں کے بعد اپنا بیان واپس لینے کا اعلان کیا لیکن انھوں نے اسی طرح کا بیان تین دسمبر 2011 کو بھی دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تردید کا کوئي اعتبار نہیں ہے: لنک دیکھئے:
.......
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش