26 فروری 2012 - 20:30

شامی پارلیمان کے سیکریٹری نے شام میں امریکی سازشوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکمران شام کے نظام حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی - ابنا - کی رپورٹ کے مطابق شامی پارلیمان کے سیکریٹری خالد العبود نے کہا ہے کہ آل سعود کے حکمران ایک سالہ بحران کے بعد اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ شام اس بحران سے سربلند ہوکر عہدہ برآ ہورہا ہے جبکہ سعودی عرب کے اندر جاری بحران زوروں پر ہے۔

شامی مجلس الشعب کے سیکریٹری نے کہا تیونس میں منعقدہ کانفرنس شام پر دباؤ بڑھانے کے لئے تھی تا ہم ہماری رائے کے مطابق اس کانفرنس کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ کانفرنس کے مغربی اور بعض عرب شرکاء نے شام کے مخالف دہشت گرد ٹولوں کو مسلح کرنے اور ان کو مالی امداد فراہم کرنے پر زور دیا ہے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ نے شام کے خلاف اپنے تمام کارڈز استعمال کرلئے ہیں اور اب اس کے پاس کوئی اور حربہ نہیں ہے۔

انھوں نے کہا: آل سعود کے وزیر خارجہ تیونس کی کانفرنس سے مایوس ہوکر نکلے کیونکہ انھوں نے شام کے خلاف اپنے اقدامات کی سطح وسیع کرنے کی کوشش کی اور شام پر فضائی حملے کرانے پر زور دیا لیکن انہیں معلوم ہوگیا کہ امریکہ اور یورپ ایسا کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے اور وہ ایسا کرنا بھی نہیں چاہتے۔

.......

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: 

شام: آل سعود کے ہاتھ شامیوں کے خون میں ڈوبےہوئے ہیں؛ شام کے خلاف آل سعود کی سازش