26 فروری 2012 - 20:30

ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی عوام اور بالخصوص بلوچستان کی غیور عوام امریکہ کی اس سازش کو سمجھیں اور سب ملکر امریکہ کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو روکیں۔ اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکی کاسہ لیسی بند کر دیں، یہ معاملہ ملی غیرت اور حمیت کا ہے، جس پر بلوچستان کی تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا اور لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔

ابنا:  اور آخر امریکہ سرکار نے بلوچستان کو اپنے نئے ہدف کے طور پر واضح کر ہی دیا۔ دنیا کے تمام ممالک میں صرف امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطہ زمین کو جب چاہے اپنا ہدف بنا کر اس پر قبضہ کر سکتا ہے۔ اس ہدف کے آثار گذشتہ کئی سالوں سے نظر آ رہے تھے اور وقتاً فوقتاً بلوچستان کیلئے امریکی حضرات کی بڑھتی ہوئی ہمدردیاں اس کی نشاندہی کر رہی تھیں۔ پہلے تسلسل کے ساتھ امریکہ کا کوئٹہ میں سفارت خانہ قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جس کے بارے میں ہمارے وزیر داخلہ کے مسلسل انکار کے باوجود یہ بات حقیقت ہے کہ امریکہ نے کوئٹہ میں ایک بڑے سفارت خانے کے قیام کیلئے وسیع اراضی حاصل کرلی ہے۔ پھر امریکہ کا بار بار کہنا کہ بلوچستان میں بھی طالبان موجود ہیں، جن کیلئے اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ڈرون حملہ کر سکتا ہے اور پھر اب یہ قرارداد جس میں امریکہ نے اپنی ذہنیت کو اور واضح کر دیا۔ اس امریکی قراردداد نے صرف بلوچستان کے عوام کے حقوق کی بات نہیں کی بلکہ بلوچستان کے بارے میں پورے امریکی منصوبے کو مالش کر دیا، حتٰی اس نقشے کو بھی جو امریکہ نے گریٹر بلوچستان کے بارے میں بنا رکھا ہے، جس میں صوبہ بلوچستان، ایران کا صوبہ سیستان و بلوچستان کا علاقہ اور افغانستان کا کچھ علاقہ شامل ہے۔ بلوچستان امریکہ کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، جس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ اولاً بلوچستان قدرتی ذخائر سے مالا مال علاقہ ہے، (مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں نے کبھی بھی اس طرف توجہ نہیں دی)، پاکستان میں قدرتی گیس کا سب سے بڑا ذخیرہ بلوچستان (سوئی) میں موجود ہے، جس پر ہمارے ملک کی معیشت کا انحصار ہے۔ اسی طرح سے ملکی و غیر ملکی سروے سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ بلوچستان کے یہ سنگلاخ پہاڑ کوئلہ، تانبا و دیگر معدنیات سے مالا مال ہیں اور کسی بھی ملک کی معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں۔ امریکہ ان ذخائر سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔

دوم، پشاور کے بعد کوئٹہ افغانستان تک رسائی کا سب سے بہترین ذریعہ ہے۔ نیٹو فورسز کی افغانستان میں موجودگی کے دوران پشاور کے علاوہ کوئٹہ اور چمن کے راستہ ہی انہیں تمام رسد مہیا کی جاتی ہے۔ گذشتہ سالوں میں پارا چنار اور کرم ایجنسی کے لوگوں کی امریکی طالبان کے خلاف جوانمردی اور شجاعت نے امریکہ کے بھی کان کھڑے کر دئیے۔ اگرچہ اس جنگ میں امریکہ پارا چنار کے لوگوں کی حمایت کر رہا تھا، لیکن امریکہ نے یہ بھانپ لیا ہے کہ پارا چنار کے عوام اپنی حمیت، ملی غیرت اور دین سے وابستگی کیوجہ سے کبھی بھی امریکہ کے خلاف بھی کھڑے ہو سکتے ہیں۔ امریکہ، ایران کو کسی صورت برداشت کرنے کو تیار نہ ہے۔ مگر ماضی میں ایران کے خلاف امریکہ کی کوئی سازش بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ امریکہ نے ایران کو حملہ کرنے کی دھمکیوں سے خوفزدہ کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران اس سے مرعوب نہ ہوا۔ امریکہ نے ایران کو ایٹمی ایشو پر اقوامِ متحدہ و دیگر ممالک کے ذریعے دباؤ میں رکھنے کی کوشش کی مگر ایران کی کامیاب خارجہ پالیسی نے ایسا نہ ہونے دیا۔ ایران کے گذشتہ انتخابات میں امریکہ نے انتخابات کے نتائج کو بنیاد بناتے ہو ئے ایران میں مخملی انقلاب لانے کی کوشش کی، مگر اس میں کامیاب نہ ہوا وغیر وغیرہ۔ بلوچستان کا بارڈز ایران کے ساتھ ملتا ہے اور گزشتہ سالوں میں بھی اسی بلوچستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے امریکہ نے جنداللہ نامی دہشتگرد گروہ کو ایران کے خلاف کھڑا کیا اور اس کو ایران کی سرزمین پر مختلف دہشتگردانہ کاروائیاں کرنے کیلئے استعمال کیا۔ ایران نے جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی کو ڈرامائی انداز میں گرفتار کر کے امریکہ کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ لیکن امریکہ ابھی بھی بلوچستان کی سرزمین کو ایران کے خلاف استعمال کرانا چاہتا ہے، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکی کانگریس نے اس قرارداد کو عین اس دن منظور کیا جب ایرانی صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد پاکستان کے دورے پر تھے اور یہاں پاکستانی صدر آصف علی زرداری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے واشگاف الفاظ میں کہا تھا کہ ہم خطے میں بیرونی مداخلت برداشت نہ کریں گے۔

چوتھا اہم ترین عامل امریکہ کی نظر میں بلوچستان کو ہدف بنانے کا ’’گوادر‘‘ ہے، گوادر اہم ترین بندرگاہ ہے اور گزشتہ دور حکومت میں جب سے گوادر میں چین کا نفوذ بڑھا ہے، امریکہ سخت ترین تشویش میں مبتلا ہے۔ مستقبل میں گوادر کراچی سے بڑی بندر گاہ کے طور پر شمار ہو گا جس کے ذریعے امریکہ نہ صرف افغانستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں تک بھی آسانی سے رسائی حاصل کر لے گا۔ ایک اور اہم ترین عامل بلوچستان کے قبائلی عوام کا انتہا پسند طرز تفکر ہے۔ اسی بات میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں بھی بلوچستان کے لوگ اپنے جائز حقوق سے بھی محروم رہے ہیں۔ جو کہ لازماً ان کو ملنا چاہیں تھے۔ جسکی وجہ سے بلوچستان کی عوام میں کچھ عناصر کی طرف سے علیحدگی پسند تحریکیں شروع ہو گئیں۔ یہ بات امریکہ کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اس طرح کے انتہا پسند لوگوں کو سپورٹ کر کے امریکہ اپنے مقاصد حاصل کر سکتا ہے۔ یہ وہ چند عوامل تھے جو کہ امریکہ کی بلوچستان میں دلچسپی کا باعث بنے ہیں۔ یہ تو امریکی دلچسپی کی بات تھی، ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کی عوام اور بالخصوص بلوچستان کی غیور عوام امریکہ کی اس سازش کو سمجھیں اور سب ملکر امریکہ کے بڑھتے ہوئے نفوذ کو روکیں۔ اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ وہ امریکی کاسہ لیسی بند کر دیں، یہ معاملہ ملی غیرت اور حمیت کا ہے، جس پر بلوچستان کی تمام سیاسی اور مذہبی قوتوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا اور لائحہ عمل طے کرنا ہو گا۔

........

/169