اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق وائن رائٹ نے ملت بحرین کے ساتھ آل خلیفہ کے تشدد آمیز طرز سلوک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: مختلف رپورٹوں سے ثابت ہوتا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی اعلانیہ پامالی جاری ہے حتی کہ آل خلیفہ کی حکومت کی جانب سے تشکیل یافتہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے سربراہ البسیونی کی رپورٹ بھی بتاتی ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کو بدستور پامال کیا جارہا ہے۔
انھوں نے کہا: فروری اور مارچ 2011 کو عوامی مظاہرے ایسے نہ تھے جن پر قابو پانے کے لئے آل خلیفہ کو سعود کی افواج کی مدد مانگنے کی ضرورت ہو لیکن موصولہ اطلاعات کے مطابق آل سعود کو بحرین میں فوجی مداخلت کی جلدی تھی اور یہ مداخلت ریاض کے اصرار کا نتیجہ تھی۔
انھوں نے کہا: برطانوی حکومت آل خلیفہ کی حکومت کو ہتھیار بیچ کر عوامی مظاہروں کو کچلنے میں مدد دے رہی ہے اور میں ایک برطانوی شہری کی حیثیت سے اس حوالے سے بحرینی عوام سے معذرت کرتا ہوں اورمیری رائے کے مطابق برطانوی حکومت برطانوی عوام کی نمائندہ حکومت نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: امریکہ اور برطانیہ ملت بحرین کو کچلنے میں آل خلیفہ حکومت کے حلیف ہیں اور اس کا ہاتھ بٹا رہے ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ نہ صرف آل خلیفہ حکومت کو ہتھیار فروخت کررہے ہیں بلکہ ان دو ملکوں نے اپنے سیکورٹی ماہرین بھی بحرین بھجوادیئے ہیں۔
انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی انٹیلی جنس ایجنسی کا سابق سربراہ ایان ہنڈرسن برطانوی شہری ہے اور نہایت شرمناک جرائم جیسے: "بحرینی شہریوں کو ٹارچر کا نشانہ بنانے" میں برابر کا شریک ہے۔
............
/169