24 فروری 2012 - 20:30

افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ہاتھوں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعہ کے خلاف ہونے والے تازہ پر تشدد احتجاج میں مزید چھ افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں جبکہ مظاہرین نے قندوز میں اقوامِ متحدہ کے ایک دفتر کو بھی آگ لگا دی ہے اور دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملے کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارتِ داخلہ کے اندر فائرنگ کے ایک واقعہ میں دو غیر ملکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انتہائی سکیورٹی والے علاقے میں پیش آنے والے اس واقع کے بعد وزارتِ داخلہ کو بند کر دیا گیا ہے۔بین الاقوامی سکیورٹی فورسز ایساف نے ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے لیکن ہلاک ہونے والوں کی شہریت نہیں بتائی۔

تاہم افغان سکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک امریکی فوج کا کرنل اور دوسرا میجر تھا۔ادھر چار افراد قندوز صوبے میں ہلاک ہوئے جو پولیس اہلکاروں نے اقوامِ متحدہ کے دفتر کے قریب مظاہرہ کرنے والے افراد پر گولی چلا دی۔

تین افراد جنوبی صوبے لوغر میں ہلاک ہوئے۔کابل کے قریب بگرام کے فوجی اڈے میں تعینات نیٹو فوجیوں کے ہاتھوں قرآن جلائے جانے پر منگل کے روز سے جاری احتجاج میں اب تک 27 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملے کریں ۔ اور افغانستان اور خطے سے امریکی انخلا کے ۂغے متحدہ ہوجائیں۔

 

 

........

/169

تصویری رپورٹ: افغانستان میں قرآن کي بيحرمتي کے خلاف مظاہرے

افغان مظاہرین پر امریکی فوجیوں کی فا‏ئرنگ

افغانستان میں مظاہرین نے امریکی قونصلخانہ کو محاصرے میں لےلیا ہے

افغانستان ميں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف چوتھے روز بھي مظاہرے جاري

قرآن پاک کي بيحرمتي کے خلاف افغانستان بھر ميں مظاہرے

افغانستان میں امریکہ مخالف اعتراضات

قرآن کی بیحرمتی کے خلاف احتجاجات میں9 جان بحق

افغانستان میں قرآن کریم کی بے حرمتی، مغرب میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی کانتیجہ

افغانستان : قرآن کریم کی توہین کی شدید مذمت