اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق "زهير كتبي" نے "الدلیل" ٹیلی ويژن کے پروگرام "البيان التالي" (اگلا بیان) میں كه اناؤنسر "عبدالعزيز القاسم" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: آل سعود کو خبردار کیا کہ سعودی عرب کے حالات ان کے خاندانی حکومت کے مفاد میں نہیں ہیں اور تیل کی دولت سے مالامال اس ملک میں بھوکے انسانوں کا انقلاب خارج از امکان نہيں ہے۔ انھوں نے آل سعود کو نہایت ہمدردانہ انداز سے کہا: حالات کو توجہ دو ورنہ دیر ہوجائے گی۔آل سعود نے الکتبی کے اس ہمدردانہ انتباہ کا جواب دیتے ہوئے البیان التالی پروگرام کو فوری طور پر روک لیا۔آل سعود کی انفارمیشن منسٹری نے اس پروگرام کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی اور یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ پروگرام کب تک بند رہے گا۔ عبدالعزیز القاسم نے اپنے حامیوں کے ایمیل پیغام کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ انھیں یہ پروگرام روکنے کا حکم نامہ انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹر کے نائب عبداللہ الجاسر کی طرف سے موصول ہوا۔ آل سعود کی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹری نے اسی مہینے ملک میں موجودہ غربت اور غریبوں کے بارے میں کسی بھی پروگرام کی نشر و اشاعت پر پابندی لگائی ہے کیونکہ اس کے بقول ایسے پروگراموں سے آل سعود کے "ہردلعزیز" چہرے (!) پر بدنامی کا داغ لگنے کا خدشہ ہے!۔مختلف انٹرنیٹ ویب بیسز نے آل سعود کی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹری کے اس قانون پر رد عمل ظاہر کیا اور کہا کہ آل سعودی کی انفارمیشن اینڈ کلچر کی وزارت عوام کی صدا گھونٹنا چاہتی ہے اور انہیں مجبور کررہی ہے کہ رنج و غم پر خاموش رہیں اور مر جائیں لیکن ایک لفظ بھی زبان پر جاری نہ کریں۔دریں اثناء زہیر کتبی نے سعودی وزارت خانے کے قانون کو بالائے طاق رکھ کر آل سعود کی سرخ لکیروں کو پامال کرتے ہوئے الدلیل ٹیلی ویژن پر "سعودی عرب میں غربت و افلاس" کے عنوان کے تحت ایک پروگرام ترتیب دیا جو گذشتہ جمعہ کے روز نشر کیا گیا۔ اس پروگرام میں انھوں نے سعودی "بنك الاثمار" کے سربراہ عمروالفیصل کو مہمان کے طور پر مدعو کیا تھا۔ زہیر الکتبی نے اس پروگرام کے آغاز پر کہا: سعودی عرب کے پاس سات ٹریلین مکعب میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں ۔۔۔ اس ملک میں کھربوں ڈالر کی لوٹ مار ہوئی ہے اور دنیا کے 25 دولتمند ترین افراد میں 10 سے لے کر 15 تک افراد سعودی باشندے [یعنی آل سعود کے شہزادے] ہیں۔ انھوں نے کہا: ہمارے ملک کے ارد گرد انقلابات رونما ہونا شروع ہوئے تو ہماری حکومت نے اچانک، کسی تمہید کے بغیر، عوام کو رہائش کی سہولت دینے کے منصوبے پر کام کرنا ضروری سمجھا۔ جبکہ یہ ایجنڈا کسی طور بھی درست نہیں ہے اور اس کے اوپر کوئی مطالعہ نہیں ہوا ہے اور اس کے لئے درست اور ماہرانہ منصوبہ بندی نہیں ہوئی ہے اور اور اس کا فیصلہ عجلت میں ہوا ہے۔ الکتبی نے کہا: غربت و افلاس وہ واحد خطرہ ہے جو سعودی عرب کو چلینچ کررہا ہے۔ غربت حتی اسرائیل سے بھی زيادہ خطرناک ہے۔ میں سعودی عرب میں غریبوں اور بھوکوں کے انقلاب اور ملک کے داخلی امن و امان کی تباہی کے حوالے سے فکرمند ہوں۔ کیونکہ جب انسان کو کھانے کے لئے کچھ نہ ملے وہ قتل تک کا ارتکاب کرسکتا ہے۔
.........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ