اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کی مطابق آل سعود کی وزارت خارجہ کے اس اعلی اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ القطیف میں جو کچھ ہورہا ہے ایک قسم کی نئی دہشت گردی پر مبنی اقدامات میں شمار ہوتے ہیں!!
آل سعود کی وزارت داخلہ کے اس اہلکار نے عوام کے پر امن مظاہروں کو ایسے حال میں دہشت گردی سے تعبیر کیا ہے کہ اس خاندان کے بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود اپنے ملک میں مظاہروں کو کچلنے اور بحرین پر جارحیت کا ارتکاب کرنے کے باوجود شام میں جمہوریت کے نام پر ہر قسم کی مداخلت کررہے ہیں، وہاں دہشت گردوں کی مالی اور فوجی حمایت کرتے ہیں اور شام کے عوام کو جمہوریت اور آزادی کے حصول کی تلقین کرتے ہیں اور ان کو حمایت کے پیغامات بھیجتے ہیں!!!
سعودی اہلکار نے کہا کہ صوبہ القطیف میں سیکورٹی اہلکاروں اور گمراہ شدہ افراد کے درمیان جھڑپوں کا مشاہدہ کررہے ہیں اور گمراہ افراد کا احتجاج جدید دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔
سعودی اہلکار نے ہزاروں گرفتاریوں اور عوام کو قلع قمع کرنے کے سعودی اقدامات کی طرف اشارہ کئے بغیر کہا کہ اگر القطیف میں حالات نازک ہوجائیں تو سعودی عرب کی سیکورٹی فورسز اپنی پوری طاقت استعمال کرکے آہنے مکے سے مظاہرین کو کچل دیں گی۔
سعودی اہلکار نے دعوی کیا کہ مٹھی بھر افراد جو بیرونی قوتوں سے وابستہ ہیں، اجنبی قوتوں کے اشاروں پر سرگرم عمل ہیں اور ان لوگوں کے اقدامات کا سبب عالم اسلام اور عالم عرب کے سلسلے میں آل سعود کے اقدامات ہی ہیں۔
سعودی اہلکار نے البتہ یہ نہيں بتایا کہ شام میں عدم استحکام پیدا کرنے کے سلسلے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کی صف میں کھڑا ہونا اور آل خلیفہ کی حقاظت کی خاطر بحرین پر جارحیت کرنا عالم اسلام اور عالم عرب کی خدمت کیونکر ہوسکتی ہے۔
سعودی اہلکار نے الشرقیہ میں عوام کے قتل عام، بحرین میں عوام کے قتل عام میں آل خلیفہ کا ہاتھ بٹانے اور عراق اور شام نیز پاکستان میں دہشت گردوں کو مسلح کرکے ہزاروں افراد کا قتل عام کرانے کی طرف اشارہ کئے بغیر نہایت وقیحانہ انداز سے کہا ہے کہ الشرقیہ کے مظاہرے آل سعود کو ان لوگوں کے خلاف اقدامات کرنے سے نہیں روک سکتے جو اپنی ملت کا خون بہا رہے ہیں!!!!!!!!!!
........
/169
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:
سعودی عرب میں عوامی تحریک جاری؛ مکمل صورتحال؛آل سعود: العوامیہ کی پوری آبادی کو قتل کریں گے؛ آل سعود کو علمائے الاحساء کا انتباہ