ابنا: جمہوریت اور بنیادی آزادیوں کے لئے چلنے والی بحرینی عوامی تحریک کو ایک سال ہوچکا ہے اور گذشتہ ایک سال میں یہ تحریک مکمل طور پر پرامن رہی ہے جبکہ اس تحریک کو فورسز کی جانب سے شدید ترین تشدد کا سامنا رہا ہے ،ایک سال میںاس تحریک کے ستر کارکنوں کو جان کا نذرانہ پیش کرنا پڑے سینکڑوں افراد کو جیل جانا پڑا تو ہزاروں کو اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن ان تمام تر مشکلا ت کے باوجود بحرینی عوام کی تحریک نہ صرف کمزور نہیں ہوئی بلکہ دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور اب اس بات کا امکان ہے کہ تحریک انتفاضہ کا شکل اختیار کرے ۔
فرانس کے اخبار لیبراسیون کے رائٹر جان پول بوردی کا خیال ہے کہ اب یہ پرامن تحریک ایک انتفاضہ میں تبدیل ہوسکتی ہے ،جان پول کہتا ہے کہ آغاز میں جب یہ تحریک چلی تھی تو اس میں تمام مکاتب فکریہاں تک کہ سیکولر قوتیں بھی ساتھ تھیں جنکا مطالبہ تھا کہ سسٹم میں تبدیلی ہونی چاہیے لیکن بادشاہ نے تمام تر ہشیاری سے سنی اقلیت کو باور کرایا کہ یہ ملک خلاف ایک سازش ہے اور اھل سنت کی اکثریت نے اسے باور کر لیا یا پھر بادشاہ کا ساتھ دینے میں عافیت جانی جبکہ سیکولر اور اھل سنت کی بعض جماعتوں نے اسے بادشاہ کا ایک اور دھوکہ قرار دیتے ہوئے تحریک میں اپنی شمولیت کو جاری رکھا ۔
جان پول کہتا ہے کہ اگرچہ شروع میں بادشاہ پرامن مظاہروں کو طاقت کے زور سے روکنے کا مخالف تھا لیکن ولی عہد اور وزیر اعظم نے سعودی افواج کے توسط سے مظاہرین پر طاقت کا بے دریغ استعمال شروع کردیا جو اب تک کم و بیش جاری ہے اور یہی وہ چیز ہے جو معاشرے کو آہستہ آہستہ انتفاضہ کی جانب لے جارہی ہے جس کی مثال نوے کی دہائی میں نظر آتی ہے ۔
اگر اس وقت بحرینی معاشرے پر نظر ڈالی جائے تو جان پول کا تجزیہ اپنی جگہ سو فیصد درست نظر آتا ہے کیونکہ باوجود مکمل میڈیا بائیکاٹ اور عالمی خاموشی کے بحرین کی تحریک آب وتاب کے ساتھ جاری ہے اور پہلے سے کچھ زیادہ فعال نظر آتی ہے ٹینکوں اور اعصاب شکن گیسوں سے خوفزدہ ہونے والے جوان اب نہ صرف ان سے خوفزدہ نظر نہیں آتے بلکہ ان کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں اور ان پر پتھر پھینکتے ہیں ،عقوبت خانوں کے ٹاچرسے نہ صرف ڈرتے ہیں بلکہ وہ اس کے لئے تیار نظر آتے ہیں،بحرین میں فورسز کے ہاتھوں شہید ہونے والے افراد کو امیر یعنی لیڈر اور شہید کے خاندان کو لیڈر کی خاندان کا نام دیا جاتا ہے اور لوگ انہیں مبارک بادیوں کے ساتھ تحائف پیش کرتے ہیں ۔
بالغ النظر میں اگر دیکھا جائے تو بحرینی معاشرہ کچھ کچھ فلسطینی معاشرے کی تصویر پیش کرنے لگا جہاں ایثار قربانی اور فداکاری کو معاشرے میں بے انتہاءپذیرائی حاصل ہے دوسری جانب فورسز نے بھی تشدد کے نت نئے ہتھکنڈے تلاش کرتے ہوئے اسرائیلی افواج سے بھی زیادہ پیش قدمی کی ہے ۔
بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت الوفاق الوطنی کے سربراہ آیت اللہ عیسی قاسم نے اپنے ایک خطبے میں ایک اہم نکتے کی جانب اشارہ کیا انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ آل خلیفہ عوام کو سڑکوں پر نکلنے سے روکنے میں کامیاب ہو لیکن وہ تبدیلی کی خواہش اور امنگ کو ختم نہیں کرسکتا جو اب ہر بحرینی کی آرزومیں تبدیلی ہوچکی ہے.
........
/169-110