15 فروری 2012 - 20:30

لیبیا میں ڈکٹیٹر حکومت کا تختہ پلٹے ہوئے تقریبا چار مہینہ گزر جانے کے باوجود اب بھی اس ملک میں ابھی تک مکمل امن قائم نہیں ہوا ہے۔

ابنا: لیبیا کے مختلف علاقوں میں جنگجوؤں کے درمیان قبائلی جھڑ پیں یقینا ایک ایسا اہم خطرہ ہے جو آج بھی اس ملک کے امن و چین کے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

ادھر گزشتہ چند ہفتوں میں انقلابیوں اورسابق حکومت کے حامیوں کے درمیان جھڑ پوں کی رپورٹیں منظرعام پر آئی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف قبیلوں کے درمیان قبائلی جھڑپیں اس پر مستزاد ہیں کہ جو روایتی طور پر ایک دوسرے کے حریف اور دشمن سمجھے جاتے ہیں۔

لیبیا کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے والی حالیہ قبائلی جھڑپ میں بیس افراد مارےگئے۔ یہ جھڑپ" الکفرہ" کے علاقے میں ہوئی۔ التبو اور الزویہ کے مسلح قبائلی افراد نے ہلکے اور بھاری ہتھیاروں سے جو، ان کے پاس انقلاب کے زمانے سے تھے، ایک دوسرے پر حملہ کیا ہے۔

اگر چہ لیبیا میں جو قبائلی نظام پر مشتمل ہے قومی، گروہی، اور قبائلی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن چونکہ اس وقت یہ ملک ایک عبوری دور سے گزر رہا ہے، لہذا ہر طرح کی آپسی رنجشیں اور جھڑپیں اس ملک کے انقلاب کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتی ہیں۔

ادھر چند دنوں سے مختلف قبیلوں کے درمیان متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوئی ہیں جن کا مقصد، تیل کے ذخیروں پر قبضہ کرنا ،انتقام لینا یا قدیمی حساب و کتاب بےباق کرنا تھا۔ اس دوران قومی عبوری کونسل نے، قبیلوں کی باہمی کشیدگی کو کم کرنے اور انقلاب کے دوران عوام کے پاس موجود ہتھیاروں کے خطروں کو کم کرنے کے لئے قبائل کے مسلح افراد اور جنگجوؤں کو لیبیا کے سکیورٹی اداروں میں نوکریاں دی ہیں۔

لیبیا کی فوج کے کمانڈر بریگيڈیئر یوسف المنقوش نے بنغازی میں کہا ہے کہ عنقریب جنگجوؤں کو وزارت دفاع میں مکمل طریقے سے شامل کر لیا جائےگا انہوں نے مزید تاکید کی کہ لیبیا کی وزارت دفاع نےاب تک پانچ ہزار جنگجوؤں اور مسلح افراد کو ملازمت دی ہے اور اس سلسلے میں دفتری مراحل مکمل ہونے کے بعد مزید افراد کو بھرتی کیا جائے گا جس سے یہ تعداد بارہ ہزار ہو جائے گی۔

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نےانقلاب نے مسلح جنگجوؤں کو اس وقت سرکاری اداروں میں بھرتی کرنے کا اقدام کیا کہ جب قبائلی عوام نے ہتھیار جمع کرانے کی قومی عبوری کونسل کی اپیل کا خیرمقدم نہیں کیا۔ قومی عبوری کونسل نے بھی لیبیا میں امن و امان قائم کرنے کے لئے مسلح قبائلی افراد کوسرکاری، اورسیکورٹی اداروں میں بھرتی کرنے کو اپنے ایجنڈے میں شامل کر لیا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ قومی عبوری کونسل کے ارکان اور لیبیا کی نگراں حکومت کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہوچکا ہے کہ قبائلی افراد کا مسلح رہنا اس ملک اور انقلاب سنگين خطرہ ہے کہ جس میں نئي تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

لیبیا ایک ایسا ملک ہے جو کئی سالوں سے ڈکٹیر قذافی کے خودساختہ قوانین اور نظام کے مطابق چل رہا تھااور ہم شاید کہا جا سکتا ہے کہ قذافی کےدور حکومت میں لیبیا کے حکومتی نظام کی دنیا میں کوئي اور مثال نہیں تھی اور آج بھی قومی عبوری کونسل ایسے ہی سیاسی نظام کی وارث ہے۔

اسی بناء پر سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ لیبیا کے موجودہ حکمرانوں کی ناتجربہ کاری کے ساتھ ساتھ اگر قبائلی جھڑپیں بھی شروع ہو گئيں تو اس ملک کے نئے سیاسی نظام کے لئے یہ دونوں چیزیں خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

خاص کر ایسے وقت جب کہ نیٹوکے ارکان سمیت مغربی ممالک تیل کی دولت سے مالامال ملک لیبیا کے سیاسی اور اقتصادی میدانوں میں داخل ہونے کے لئے، اس ملک پر حریصانہ نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔

ایسے حالات میں لیبیا کے اعلی حکام ایک ایسی راہ حل تلاش کر نے کی کوششیں کر رہے ہیں کہ جس کے ذریعے وہ اس ملک کے انقلاب پر ہر قسم کی ملکی اور غیر ملکی جارحیت کا راستہ روک سکیں اور عوام سے اسلحہ واپس لینے اور جنگجوؤں کو ملکی اداروں میں نوکریاں دینے کے اقدام کا اسی تناظر میں جائزہ لیا جا سکتا ہے۔....... /169