ابنا: رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج ایران کے شمال مغرب میں واقع صوبہ آذربائجان میں عظیم عوامی اجتماع سے خطاب میں گيارہ فروری کو اسلامی انقلاب کی کامیابی کے موقع پر لاکھوں کروڑوں افراد کی شرکت کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ ملت ایران کی اس عظمت اور تعجب آفرینی کا سبب اس کی بصیرت اور وقت کے تقاضوں کی بے مثال شناخت ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی کا یہ دورہ اٹھارہ فروری انیس سو اٹہتر کو شہر تبریز کے تاریخی قیام کی مناسبت سے انجام پارہا ہے۔ آپ نے تحریک انقلاب کے واقعات کو سبق آموز اور ترقی کی چوٹیوں اور اھداف کی طرف بڑھنے کے لئے معیار قراردیا۔
آپ نے اس سال گيارہ فروری کو عوام کے عظیم جلوسوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ اس سال سب نے یہی بات کہی ہےکہ گيارہ فروری کے جلوسوں میں عوام کی تعداد گذشتہ برسوں سے زیادہ تھی اور لوگوں میں جوش و جذبہ بھی زیادہ تھا۔
ولی امر مسلمین نے صہیونیت کے عالمی نیٹ ورکوں کے تحت دشمنوں کے پروپگينڈوں کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ دشمن کے بھر پور پروپگينڈوں کا بنیادی ھدف اس سفید جھوٹ کو حقیقت کا روپ دینا ہے کہ ایران کی دلیر، مومن اور آزمائش شدہ ملت، انقلاب ،اسلام اور اپنے اعلی اھداف کی جانب سے بے رغبت اور غفلت کا شکار ہوچکی ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے ملت ایران کی استقامت کو اسلامی نظام کی عظیم کامیابیوں کا سبب قرار دیا آپ نے فرمایا کہ جب کوئي قوم استقامت کا ثبوت دیتی ہے اور دشمن کے بڑۓ دبدبے والے نیٹ ورکوں اور شوروغل کے مقابل مرعوب نہیں ہوتی بلکہ علم و سائنس اور ٹکنالوجی، معیشت، سماجی مسائل، اور عالمی سیاست اور قوموں کو متاثر کرنے کے میدانوں میں ترقی کرتی ہے اور اس کے ا فکار ونظریات ، دین اور نعروں کو آفاقی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے۔
رہبرانقلاب اسلامی نے فرمایا کہ خداوند متعال کے لطف و کرم اور ملت کے اتحاد اور اسکی استقامت کی برکت سے ہماری جواں نسل ہمت و استقامت سے ایران کو گلدستہ کی طرح بنادے گي اور اسے عالم اسلام کے سامنے کامیاب اور ترقی یافتہ نمونہ عمل کے طور پر پیش کرے گي۔
آپ نے نویں پارلیمانی انتخابات کی طرف اشارہ کرتےہوئے فرمایا کہ سامراج کے تشہیراتی اور پروپگينڈا مشینری اور ان کے مستقل ایجنٹوں نے یہ کوششیں شروع کردی ہیں کہ پارلیمنٹ کے نویں انتخابات کم رونق ہو جائیں لیکن سب کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ انتخابات میں عوام کی شرکت سے ملک آگے بڑھے گا اور دشمن اپنی سازشوں کو مکمل کرنےمیں شک وتردید کا شکار ہوکر پسپائي پر مجبور ہوجائے گا ۔....... /169