14 فروری 2012 - 20:30

صہیونی حکام حالیہ چند دنوں کے دوران ایران کے خلاف سناریو تیار کرنے میں مصروف رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائيلی اور امریکی حکام نے حالیہ چند مہینوں کے دوران ایران پر دباؤ ڈالنے کے لۓ اس کے خلاف یکطرفہ پابندیوں کے علاوہ فوجی کارروائی کی بھی بات کی ہے۔

ابنا: ایران کے خلاف اسرائيل کا نیا تشہیراتی سناریو گزشتہ دو دنوں کے دوران ہندوستان کے دارالحکومت نئي دہلی میں اسرائیلی سفارتکار کی کار پر مشکوک حملے اور تفلیس میں اسرائيلی سفارت خانےکی عمارت کے پاس ایک بم کا پتہ چلنے کے واقعات کے ساتھ شروع ہوا ہے۔

صیہونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے انہی واقعات کو بہانہ بناتے ہوۓ ایک ہنگامی اجلاس بلایا اور نئی دہلی کے مشکوک واقعے میں ایران کے ملوث ہونے کا الزام لگایا حالانکہ اسرائيل کا یہ بے بنیاد دعوی ہندوستانی پولیس کے حکام مسترد کر چکے ہیں۔

ایران کے خلاف تشہیراتی مہم کو جاری رکھتے ہوۓ اسرائيلی وزیر جنگ ایہود باراک نے تھائي لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں کل ہونے والے بم دھماکوں کے سلسلے میں ایران پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ تمام اقدامات در حقیقت اسی سناریو کا تسلسل ہے جو چند ماہ قبل امریکہ میں تعینات سعودی عرب کے سفیر کے قتل کے ایران کے منصوبے کے بے بنیاد دعوے کے ساتھ شروع کیا گیا تھا لیکن امریکہ نے اپنے دعوے کے اثبات کے لۓ چند بے بنیاد اور غلط بیانات کے سوا کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا تھا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمان پرست نے بھی کل کہا کہ بینکاک میں ہونے والے دھماکے سے متعلق صہیونی ریاست کا دعوی واشنگٹن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر کے قتل کی کوشش کے بے بنیاد امریکی دعوے کا ہی تسلسل ہے۔اور ایک ہی وقت میں جارجیا ، ہندوستان اور بنیکاک کے دہشتگردانہ واقعات میں ایران کے ملوث ہونے کے بے بنیاد دعوے سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ حکومت خاص سناریو اور ماحول قائم کرنے کے ذریعے ایک سازش میں مصروف ہے۔

رامین مہمان پرست نے بھی کہا ہے کہ صہیونی حکام نے گزشتہ مہینے بعض ذرائع ابلاغ کے ذریعے یہ ظاہر کرنےکی کوشش کی تھی کہ تھائي لینڈ میں سلامتی کی صورتحال ابتر ہے۔ جس سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ حکومت موجودہ سناریو کی پلاننگ اور اس کے لۓ کوشش کررہی تھی۔

ایران مخالف ماحول ایسی حالت میں پیدا کیا جارہا ہے کہ جب این پی ٹی کے رکن تمام ممالک کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ایران کے ایٹمی معاملے سمیت چند طرفہ موضوعات کے سلسلے میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے از سر نو آغاز کے لۓ کی جانے والی کوششیں اپنے آخری مرحلے میں ہیں۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن ہونےکی حیثیت سے چین اور روس نے ایران کے خلاف ہر طرح کے مخاصمانہ اقدام اور امریکہ کی ایران مخالف یکطرفہ پابندیوں میں شدت کو مسترد کرتے ہوۓ ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات جاری رہنے پر تاکید کی ہے۔

ایران مخالف ان اقدامات اور ماحول پیدا کرنے کا دوسرا مقصد ایران میں نویں پارلیمانی انتخابات کے موقع پر ان انتخابات پر اثر انداز ہونا ہے۔ متعدد قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور صہیونی ریاست مختلف بہانوں کے ذریعے مہم جوئي کے درپے ہیں اور اس ذریعے سے وہ اپنے خیال باطل کے مطابق ایران کے لۓ مشکلات پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ صہیونی حکام ایک تیر کے ساتھ دو شکار کرنے کی پالیسی کے تحت ایک جانب ایران پر دہشتگردی کی حمایت کا الزام لگا کر اپنے آپ کو ایرانی دانشمندوں کی ٹارگٹ کلنگ کے منفی نتائج سے بچانا چاہتے ہیں اور دوسری جانب وہ ایران کے پارلیمانی انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ یہ سناریو اور حربے اس سے پہلے بھی ناکام ہوچکے ہیں اور امریکہ و اسرائيل کو ذلیل و رسوا کرچکے ہیں۔............ /169