13 فروری 2012 - 20:30

بحرینی عوام کی لغت میں پسپائی کا لفظ نہیں پایا جاتا بحرین کے عوام 14 فروری کو میدان اللؤلؤہ میں لوٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اطلاعات کے مطابق آل خلیفہ کی اپوزیشن کے اورسیز دفتر کے رکن نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرینی عوام کسی صورت میں بھی اپنے مطالبات سے پسپا ہونے کے لئے تیار نہیں ہیں اور ان کی لغت میں پسپائی کا لفظ نہيں پایا جاتا چنانچہ عوام آج منامہ کے میدان اللؤلؤہ لوٹ کر وہاں دھرنا دینے اور اپنی تحریک کی پہلی سالگرہ شان و شوکت منانے کے لئے پرعزم ہیں۔

14 فروری 2012 کو بحرین کے عوامی انقلاب کی پہلی سالگرہ منائی جارہی ہے، اس انقلاب کے لئے بحرینیوں نے اب تک 70 شہیدوں کی قربانی دی ہے اور آل خلیفہ اور آل سعود نے مل کر وہابی اور خلیفی تشدد کے تمام حربے آزما لئے ہيں اور  انہیں امریکی و اسرائیلی نیز برطانوی حمایت بھی حاصل ہے اور لندن کا ایک سابق پولیس چیف عوام کو کچلنے کے لئے آل خلیفہ کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔ لیکن انقلابی تحریک جاری ہے جس کی زندہ مثال یہی ہے کہ بحرینی عوام مایوس ہوکر گھروں میں دبکنے کی بجائے ہنوز سڑکوں پر ہیں اور آج 14 فروری کو اسی اسکوائر میں واپس جانے کا ارادہ رکھتے ہیں جہاں سے انھوں نے ایک سال قبل اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا۔

بیرون ملک تعینات اپوزیشن کے دفتر کے رکن "ابراہیم المدہون" نے کہا کہ بحرینی عوام کے حوصلے بہت بلند ہیں اور ان مجاہد عوام کی لغت میں پسپائی کا لفظ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا اور وہ اپنے تما مطالبات پر عملدرآمد ہونے تک چین سے بیٹھنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔

انھوں نے کہا: بحرینی عوام کی استقامت نے حکومت کی تمام تر تخلیقی صلاحیتیں چھین لی ہیں اور خلیفی گماشتوں کے مختلف اقدامات کا مقابلہ کرنے کے لئے عوام کے انقلابی حربوں نے آل خلیفہ کے کرائے کے غنڈوں کو بے بس کردیا ہے اور آل خلیفہ حکومت عوام کی پیہم پرامن جدوجہد سے عاجز آگئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ آل خلیفہ کے خلاف عوامی انقلاب کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا بھر میں خلیفی سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کئے جائیں گے؛ مختلف ذرائع ابلاغ کو انٹرویو دیئے جائیں گے، المنار سیٹلائٹ چینل پر ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جائے گا جس میں آل خلیفہ کے مخالف راہنما شرکت کریں گے۔

انھوں نے ان دعووں کو مسترد کیا کہ میدان اللؤلؤہ میں عوامی مظاہرہ بحرینی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور یہ بحرینی عوام کا مسلمہ حق ہے کہ اس میدان میں اکٹھے ہوکر اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرہ کریں، ریلیاں نکالیں اور دھرنا دیں۔

انھوں نے کہا: آل خلیفہ کی حکومت نے عوامی مطالبات کو نظر انداز کیا ہے حالانکہ 1973 اور 2002 میں منظور شدہ سول قانون کے مطابق، عوام اقتداراعلی کا سرچشمہ ہيں لیکن آج دنیا دیکھ رہی اور ہم بھی دیکھ رہے ہیں کہ آل خلیفہ کی حکومت اور اس سے وابستہ ادارے ملک کے تمام ادارے ملت پر رحم نہیں کرتے چنانچہ یہ حکومت ایک ناجائز حکومت ہے جس کو جلد از جلد سرنگوں ہونا چاہئے۔

........

169-110

تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:

انقلاب بحرین کا ایک سال؛ اب بحرینی آل خلیفہ سے نہیں ڈرتے