ابنا: روس کے وزیر خارجہ نے جو بشار اسد کے نام اپنے صدر "ڈیمیٹری مڈوڈوف"کا سرکاری خط لے کر دمشق پہنچے ہیں کہا کہ ماسکو اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ عرب کے عوام آپس میں صلح و آشتی کے ساتھ زندگی بسر کریں۔
لاوروف اور بشار اسد کے مابین ہونے والی ملاقات کے بعد لاوروف نے بتایا کہ شام کے صدر بشار اسد نے اصلاحات جاری رکھنے، مسلح گروہوں کے تشدد و مخاصمت کو ختم کرنے اورنئے آئین تیار کرنے کے بارے میں ریفرنڈم کرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
بشار اسد نے تاکید کی ہے کہ وہ عنقریب شام کے نئے آئین کے بارے میں ریفرنڈم کے وقت کا اعلان کریں گے۔ شام کے صدر نے مزید کہا کہ شام کی حکومت کے نمائندے مخالفین سے مذاکرات کر رہے ہیں اور شام میں امن وسلامتی قائم رکھنے کے لئے ہر طرح کے تعاون کے لئے تیار ہیں۔
بشار اسد نےلاوروف سے ملاقات کے دوران عرب لیگ کے مبصرین کے ساتھ تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بعض عرب حامیوں کی طرف سے مبصرین کی ٹیم کے کام میں رکاوٹ ڈ النے کے الزام پر تنقید اورشکوہ کیا ہے۔ بعض عرب ممالک امریکہ اور مغرب کی ہاں میں ہاں ملا کر شام کے سیاسی نظام اور بشار اسد کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں ۔
یہ موقف ایسے موقع پرسامنے آیا ہے کہ جب اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے عرب ممالک کو شام کے سیاسی نظام میں مداخلت پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی علاقائی ملکوں کے حالات میں شدید کشیدگی کا سبب بنے گی اور علاقے کے تمام ممالک شام میں فوجی کارروائی کے برے نتائج سے متاثر ہوں گے۔
علی اکبرصالحی نے شام کے خلاف مغرب اور عرب ممالک کےحکمرانوں کی سازشوں کے بارے میں کہا کہ شام اس وقت استقامت کی حمایت کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر شام استقامت کی حمایت نہ کرتا تو مغربی ممالک اور اس کے حامی یہی کہتے کہ شام میں بہترین حکومت موجود ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت شام امریکی سازشوں کا شکار ہے بعض عرب ممالک بالخصوص خلیج فارس تعاون کونسل کے ارکان جو مغرب کے پٹھو ہیں امریکہ کی خوشامد میں اس وقت آگ پر تیل ڈال رہے ہیں جس کا فائدہ صرف امریکہ کوہوگا اور ایک نہ ایک دن اس کے خطرناک نتائج تمام ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
........
/169