6 فروری 2012 - 20:30

روس کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ مغربی ممالک نے سلامتی کونسل کی قرارداد کو بہانہ بنا کر لیبیا پر وحشیانہ یلغار کی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد مارے گئے اور وہی روش وہ شام میں بھی دہرانا چاہتے ہیں لیکن اب روس اس کی اجازت نہیں دےگا۔

ابنا:  روس کے سابق وزیر اعظم یوگنی پریماکوف سکیورٹی کونسل میں امریکہ اور عربی ممالک کی قرارداد کو روس اور چین کی طرف سے ویٹو کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے دوسرے ممالک میں مداخلت کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے روسی وزیراعظم نے اخبـارالشرق الاوسط کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئےکہا کہ عرب مالک کے درمیان فرق ہے اور بعض عرب ممالک کو دوسرے عرب ممالک کے ساتھ موازنہ کرنا غلط ہے اس نے کہا کہ مصر، تیونس کے حالات کو لیبیا اور شام کے حالات سے موازنہ کرنا صحیح نہیں ہے۔

پریماکوف نے کہا کہ شام میں بیرونی مداخلت کے آثار پہلے سے ہی نمایاں ہوگئے شام حکومت کے مخالفین نے سیاسی راستہ اختیار کرنے کے بجائے فوجی راستہ اختیار کرلیا روس کے سابق وزیر اعظم نے کہا کہ قرارداد کو ویٹو کرنے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس قرارداد میں صرف ایک فریق پر ذمہ داری عائد کی گئی تھی جبکہ بشار اسد کے مخالفین نے سب سے زيادہ شام میں تباہی مچا رکھی ہے اور ان کا قرارداد میں کوئی ذکر ہی نہیں تھا اس نے کہا کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے لیبیا کے معاملے میں ماسکو کو فریب دیا اور ہم اب شام کے بارے میں مغربی ممالک کے فریب میں نہیں آئیں گے اس نے کہا کہ بشار اسد کے جانے سے شام میں امن قائم نہیں ہوگا بلکہ ہمیں بشار اسد کو موقع دینا چاہیے اور اس کا تعاون کرنا چاہیے تاکہ وہ شام میں اصلاحات انجام دے اس نے کہا کہ امریکہ اگر جمہوریت کا خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اتحادی عرب ممالک میں جمہوری اصلاحات کے لئے اقدام کرنا چاہیے۔........

/169