ابنا: علامہ ساجد نقوی نے کہا ہے کہ امت مسلمہ میں شیعہ سنی کی تفریق اور مسلکی اختلافات کے خاتمے' امن و آشتی کے فروغ کا راستہ اپنانا ہوگا تاکہ ہم خدا اور خاتم الانبیاء کی خوشنودی حاصل کرسکیں۔
علامہ ساجد نقوی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خاتم المرسلین کی میلا د کا جشن منانے کا سب سے بہتر اور موزوں طریقہ یہ ہے کہ امت مسلمہ بالخصوص اور عالم انسانیت بالعموم حضور اکرم کی سیرت' سنت اور فرامین پر عمل کرے اور اپنی انفرادی' اجتماعی' روحانی' دینی و دنیاوی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے حضور اکرم ۖ کے اسوہ حسنہ کو نمونہ عمل قرار دے۔
انہوں نے کہا ہے کہ پیغمبر اکرم ۖ نے قرآن کریم' اہل بیت 'احادیث اور اسلامی تعلیمات کی شکل میں نظریہ اور اپنی سیرت عالیہ کی شکل میں عمل کا جو اثاثہ ہمارے لئے چھوڑا ہے اس پر صحیح معنوں میں عمل کرنا ہی ہمارے لئے باعث نجا ت ہے۔ قرآنی تعلیمات اور اسلام کی عملی تعبیر کے لئے ہمیں سیرت رسول اکرم ۖ سے استفادہ کرنا ہوگا لیکن بدقسمتی سے امت مسلمہ عملی طور پر ان تعلیمات پر عمل پیرا نہیں ہے جس کی وجہ سے مسلسل مصائب و آلام میں مبتلا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے عوام اور کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ ہفتہ وحدت کے دوران تمام مسالک اور مکاتب فکر کے مابین وحدت و یگانگت ایجاد کرنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے مشترکہ پروگرامز اور اجتماعات منعقد کریں اور سینکڑوں مشترکات کو بنیاد بناکر معمولی اور جزوی نوعیت کے اختلافی مسائل کو پس پشت ڈال کر ملت اسلامیہ کی وحدت کا عملی مظاہرہ کریںاور انسانیت دشمن عناصر پر واضح کریں کہ وہ ان کے اتحاد و وحدت کو کسی صورت نقصان نہیں پہنچاسکتے۔
........
/169