2 فروری 2012 - 20:30

ایران سے تیل خریدنے والے ممالک کو ایرانی تیل کے بائیکاٹ میں شامل ہونے پر راضی کرنے کے لیے امریکہ اور یورپ کی کوششوں کے باوجود ہندوستانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ ایران سے تیل کی درآمد جاری رکھیں گے۔

ابنا: امریکہ اور یورپ کو امید تھی کہ وہ ایران کے سنٹرل بینک پر پابندی لگا کر ایران کے تیل کی فروخت کے امکان کو محدود کر دیں گے لیکن اطلاعات کے مطابق ایران اور ہندوستان کے حکام ایران سے ہندوستان کو تیل کی فروخت کی رقم کی ادائیگی کے طریقۂ کار پر متفق ہو گئے ہیں اور کولکتہ شہر میں ہندوستان کے یو سی او بینک کی برانچ کو روپیہ کی بنیاد پر ایرانی تیل کا رقم کی ادائیگی کے لیے چنا گيا ہے۔

ہندوستان اپنی ضروریات کا بارہ فیصد تیل ایران سے خریدتا ہے۔ ہندوستان اس وقت ایران سے خریدے گئے تیل کی بیس فیصد رقم روپیہ میں جبکہ باقی اسی فیصد رقم ترکی کے ہالک بینک کے ذریعے یورو میں ادا کرتا ہے۔ امریکہ اور یورپ نے ترکی کے اس بینک پر ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین ختم کرنے کے لیے بہت زیادہ دباؤ ڈالا ہے لیکن ابھی تک انہیں اس سلسلے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئي ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر دباؤ ڈالنے کے لیے امریکہ اور یورپ کی یکطرفہ کوششوں کا نہ صرف کوئي نتیجہ برآمد نہیں ہوا ہے بلکہ ایرانی تیل خریدنے والے ممالک کی جانب سے امریکہ اور یورپ کی ایران مخالف پالیسیوں کی مخالفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے تصورات کے برخلاف ایران کے شریک ممالک اپنے قومی مفادات کے مطابق فیصلے اور کام کر رہے ہیں اور وہ امریکہ اور یورپ کی یکطرفہ اور مخاصمانہ پالیسیوں پر کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ اسی بنا پر ہندوستان کے سیاسی امور کے مطالعات کے مرکز کے سربراہ نے ایران کے خلاف مغرب کی پابندیوں پر تنقید کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان پابندیوں کا کوئي قانونی جواز نہیں ہے اور یہ ناکام ہو کر رہیں گي۔

ہندوستان اور حتی چین کی اقتصادی ترقی اور اسے جاری رکھنے پر ان کی حکومتوں کی تاکید کو پیش نظر رکھتے ہوئے چین اور ہندوستان کی تیل کی ضروریات نہ صرف ہر روز بڑھ رہی ہیں بلکہ وہ خود کو اہم علاقائی اور عالمی ممالک میں سے سمجھتے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں کہ اپنے فیصلے خود کر کے یہ ظاہر کریں کہ وہ اپنے غیرملکی تعلقات میں آزادانہ فیصلے کرنے کی طاقت و توانائي رکھتے ہیں۔

اسی بنا پر ایرانی مخالف پالیسیوں میں ہندوستان اور چین کو ساتھ ملانے کی کوششوں میں امریکہ اور یورپ کو اب تک ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔ چين اور ہندوستان کے علاوہ پاکستان ترکی اور حتی جاپان نے بھی کہ جو امریکی اتحادی ہیں، اب تک ایران کے خلاف امریکہ کی بائیکاٹ کی پالیسیوں کو رد کیا ہے۔ اسی بنا پر چین کے وزیراعظم وین جیا باؤ نے جمعرات کے روز بیجنگ میں جرمن چانسلر انگلا مرکل کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ چین ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا مخالف ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران پر پابندیوں کے مخالف ممالک کو ایرانی بائیکاٹ کرنے پر راضی کرنے کے لیے امریکی اور یورپی حکام کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔........ /169