28 جنوری 2012 - 20:30

اسلامی بیداری کے ادارے کے سربراہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے کہا ہے کہ اسلامی بیداری مسلمان قوموں کو صدیوں سے لوٹے جانے اور سیاسی طور پر انھیں وابستہ رکھنے پر ردعمل ہے۔

ابنا: ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے آج تہران میں اسلامی بیداری کے عالمی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اسلامی بیداری کو کوئی نئی چیز تصور نہيں کرنا چاہئے، کہا کہ عالم اسلام کی موجودہ تحریک کو ایک مرکزی مرحلے سے تعبیر کرنا چاہئے جس میں مسلمان انسان اپنی ذات کےاجتماعی ادراک اور آگہی کے ساتھ عالمی سیاسی میدان میں اترا ہے۔

اسلامی بیداری ادارے کے سربراہ نے کہا کہ عالمی سامراجی اور تسلط پسندانہ نظام کے خلاف جدوجہد، اسلامی معاشروں میں اس کی مداخلت میں کمی، ملت فلسطین کے حقوق کا حصول، اور اسلامی تشخص کا احیاء علاقے کے ممالک میں اسلامی تحریک کے جملہ مطالبات ہیں۔

ڈاکٹر ولایتی نے مزید کہا کہ مسلمان قومیں اسلامی بیداری تحریک میں غربت سے نجات، سماجی و اقتصادی مسائل سے چھٹکارا نیز ترقی کی جانب قدم بڑھانےکی خواہاں ہیں ۔
عالمی امور میں رہبرانقلاب اسلامی کے مشیر نے کہا کہ عالم اسلام کی حالیہ تبدیلیاں مختلف خصوصیات کی حامل ہیں جن میں سب سے اہم ان تبدیلیوں کا استبداد مخالف ہونا ہے ۔

واضح رہے کہ نوجوان اوراسلامی بیداری کے زيرعنوان پہلا عالمی اجلاس صدر مملکت ، اسلامی بیداری کے عالمی ادارے کےسربراہ ، عالم اسلام کے بعض دانشوروں اورمفکرین اورایران و دنیا کے پچھتر ملکوں کے بارہ سو سے زیادہ نوجوانوں کی موجودگی میں آج سے تہران میں شروع ہوا۔ اس اجلاس میں پاکستان سے بھی انقلابی نوجوانوں اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی ہے۔
........

/169