ابنا: روسي نوجوانوں نے بدھ کي شام ماسکو ميں ايران کے سفارت خانے کے سامنے اجتماع کيا اور کہا کہ امريکہ اور يورپ اس پوزيشن ميں نہيں ہے کہ خود کو عالمي برادري کا نمائندہ قرار ديں اور کسي خود مختار ملک کے خلاف فيصلے کريں ـ مظاہرين نے اعلان کيا کہ ايران پر عائد کي جانے والي يکطرفہ تيل کي پابندياں ناقابل قبول ہيں ـ
روسي نوجوانوں اپنے ہاتھوں ميں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر ملت ايران سے يکجہتي اور امريکہ و مغرب کي توسيع پسندانہ پاليسيوں کي مخالفت ميں نعرے درج تھےـ
روسي حکومت کے ايک مشير اناتوري ياوني کوف بھي اس اجتماع ميں شريک تھےـ انہوں نے کہا کہ امريکہ دنيا ميں داروغہ کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے ليکن وائٹ ہاؤس کے حکام يہ بھول گئے ہيں کہ اس طرح کي زور زبردستي کا زمانہ گزر چکا ہےـ
ياوني کوف نے امريکہ اور ديگر مغربي ممالک کي کبھي نہ ختم ہونے والي توسيع پسندي کا حوالہ ديتے ہوئے کہا کہ اگر چين اور روس جيسي دنيا کي بڑي طاقتيں آج ايران کے حقوق کي حمايت نہ کريں تو ممکن ہے کہ آئندہ خود انہيں بھي اسي صورت حال کا سامنا کرنا پڑے- ........
/169