ابنا: ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات پھر سے شروع کرنے کے بارے میں بات چیت جاری ہے اور ایران جلد ہی گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کے لیے مجوزہ تاریخ کا اعلان کرے گا۔
علاقے کے دو اہم ممالک کی حیثیت سے ایران اور روس بین الاقوامی تبدیلیوں میں مؤثر کردار کے حامل ہیں اور دونوں نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ صلاح و مشورہ کیا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران بھی علاقے کی تبدیلیوں اور اسی طرح گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ ایران کے مذاکرات کے نئے دور کے بارے میں دونوں ملکوں کے مشترکہ نقطۂ نظر کے باعث دونوں ملکوں کے صلاح و مشورے میں اضافہ ہوا ہے۔
ایران اور چین کا تعاون بھی علاقائی اور بین الاقوامی میدان میں فروغ پایا ہے اور اسی بنیاد پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور صلاح و مشورے انجام پاتے ہیں۔
چین بھی روس کی مانند ایٹمی معاملے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے اقدامات کو اہم سمجھتا ہے اور طے پایا ہے کہ اس دورے کے بعد تہران اور بیجنگ کے صلاح و مشوروں کو جاری رکھا جائے۔
علی باقری کا روس اور چین کا دورہ ایسے حالات میں انجام پایا ہے کہ جب امریکہ عالمی برادری پر دباؤ، یکطرفہ پابندیوں اور ایران کے تیل اور سنٹرل بینک کے بائیکاٹ کے ذریعے ایران کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
اس کے علاوہ امریکہ ایک بہانے کی تلاش میں ہے تاکہ ایک واضح اور منطقی دائرے میں ایران اور پانچ جمع ایک گروپ کے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ڈالے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ ایران کے تیل اور سنٹرل بینک کے بائیکاٹ کے بارے میں چینی اور روسی حکام کے بیانات نے مغرب کو مزید چیلنجوں سے دوچار کر دیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے علی باقری کے ساتھ ملاقات میں ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کے نئے دور کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان مذاکرات کی کامیابی میں مدد دینے کے لیے روس کی آمادگی کا اعلان کیا۔ انہوں نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے بعض بڑی طاقتوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ محاذآرائی بڑھانے پر تنقید کی۔
اس ملاقات کے دوران اسی طرح دونوں ملکوں نے ایران کے ایٹمی مسئلے کے بارے میں روس کے قدم بہ قدم منصوبے کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اس منصوبے کے بارے میں دونوں ملکوں کے صلاح و مشورے جاری رہیں گے۔
ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے اعلی عہدیدار علی باقری نے دو ماہ قبل بھی روس کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے روسی حکام کے ساتھ قدم بہ قدم منصوبے کے بارے میں روسی حکام سے بات چیت کی تھی اور اس موقع پر انہوں نے اس بارے میں روسی حکام کو ایران کے نقطۂ نظر سے آگاہ کیا تھا۔
روس اور چین سلامتی کونسل کے دو مستقل رکن ہونے کی حیثیت سے علاقے میں قیام امن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ساتھ ہی وہ علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام میں ایران کے کلیدی کردار پر زور دیتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے خیال میں موجودہ حالات میں مختلف میدانوں میں ایران روس اور چین کے بڑھتے ہوئے صلاح و مشورے بھی ایران اور گروپ پانچ جمع کے مذاکرات کا نیا دور شروع ہونے کے سلسلے میں مشترکہ ارادے پر تاکید ہے۔ وہ مذاکرات کہ جن میں ایران کی مقامی توانائیوں کی بنیاد پر پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول میں ایران کے حقوق کے بارے میں منطقی رویہ اپنایا جا سکے۔
اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ اور یورپی یونین کی جانب سے اختیار کی گئی مذاکرت اور دباؤ کی پالیسی کو ایک ناکام حکمت عملی سمجھتا ہے اور اس کے بجائے دونوں فریقوں کے لیے ایک قابل قبول اور نتیجہ راستے کے عنوان سے منطقی مذاکرات اور تعاون پر زور دیتا ہے۔
........
/169