اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے اخبار الاخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے علاقائی حالات اور ایران کے خلاف جنگ کے اثرات کے پیش نظر داخلی رائے عامہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے مخالفین اور سرگرم کارکنوں کے خلاف اقدامات میں تیزی کردی ہے، خصوصاً ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر جہاں بیرونِ ملک مقیم سعودی مخالفین سرگرم ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی حکام سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ اپنے روابط کو بھی مخالفین کے اکاؤنٹس بند کرانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ 20 اگست کو سعودی عرب نے ٹیلی گرام کے 1,275 چینلز بند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ کارروائی سعودی عرب سے وابستہ مرکز اعتدال کے ذریعے کی گئی، جس کا قیام مئی 2017 میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت سے عمل میں آیا تھا۔
سعودی مخالفین کا کہنا ہے کہ مرکز اعتدال کے ذریعے ایک ایسا مذہبی بیانیہ مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جو امریکی اور اسرائیلی مفادات سے ہم آہنگ ہو۔ مخالفین کے مطابق سعودی عرب کے تعلیمی نصاب میں بھی فلسطین کے مسئلے اور اس کے دفاع سے متعلق مواد کم یا حذف کیا گیا ہے۔
مخالفین کے اکاؤنٹس کے خلاف نئی کارروائی
رپورٹ کے مطابق، اگست کے آخری عشرے میں یوٹیوب اور ایکس پر سعودی مخالفین اور دیگر عرب کارکنوں کے اکاؤنٹس کے خلاف نئی کارروائی شروع ہوئی۔ متعدد افراد اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس بغیر پیشگی اطلاع کے معطل یا بند کردیے گئے جبکہ سعودی عرب کے اندر ان کے مواد تک رسائی بھی روک دی گئی۔
متاثر ہونے والے اکاؤنٹس میں القسط انسانی حقوق تنظیم، حجازیات چینل اور سعودی حکومت کے ناقدین یحییٰ عسیری، ناصر الغامدی اور یونیورسٹی کی پروفیسر مریم الدوسری کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔
القسط تنظیم نے یوٹیوب اور ایکس کی جانب سے اپنے اکاؤنٹ کی بندش کو سعودی عرب کے ساتھ ملی بھگت قرار دیتے ہوئے کہا کہ بیرونِ ملک سرگرم انسانی حقوق اور جمہوریت کے حامی اداروں اور کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
یورپی سعودی انسانی حقوق تنظیم نے بھی اس کارروائی کو اپنی نوعیت کی شدید ترین مہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی حکام کی درخواست پر کی گئی ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ مہم ڈیجیٹل دنیا میں آزادیٔ اظہار پر عائد پابندیوں کا تسلسل ہے اور اس کے نتیجے میں سعودی عوام آزاد اور تنقیدی معلومات تک رسائی سے محروم ہورہے ہیں۔
150 سے زائد اکاؤنٹس کی بندش کی تصدیق
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی سائبر سکیورٹی کے سربراہ مساعد العیبان نے 150 سے زائد حکومت مخالف سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جانے کی تصدیق کی ہے۔
متاثرہ اکاؤنٹس پر عائد مبینہ الزامات میں سعودی ولی عہد کی مخالفت، سعودی وژن 2030 کی مخالفت، اخوان المسلمون کی حمایت اور مغرب سے نفرت جیسے الزامات شامل ہیں۔
یورپی سعودی انسانی حقوق تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کے دائرے میں انسانی حقوق کی تنظیمیں، انسانی حقوق کے کارکن اور ایسے صحافی بھی شامل ہیں جو سعودی حکومت کی پالیسیوں اور ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
مخالفین نے نئے اکاؤنٹس بنانا شروع کردیئے
اکاؤنٹس بند ہونے کے بعد متعدد سعودی مخالفین نے سوشل میڈیا پر نئے صفحات بنانا شروع کردیئے۔ بعض افراد نے انہیں موصول ہونے والے نوٹس بھی جاری کیے، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ سعودی حکام کی جانب سے ان کے اکاؤنٹس بند کرنے کی باضابطہ درخواستوں کا ثبوت ہیں۔
مخالفین کا کہنا ہے کہ ان کے چینلز اور اکاؤنٹس ریاض کی درخواست پر بند کیے جارہے ہیں اور یہ مہم سعودی ولی عہد کی قیادت میں مخالف آوازوں کو خاموش کرنے کی وسیع تر پالیسی کا حصہ ہے۔
آپ کا تبصرہ