ابنا: جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی خصوصی بنچ نے این آر او عملدرآمد کیس کی سماعت کی ، ماضی میں عدالت کو ایک موقع پر بتایاگیاتھا کہ عدنان اے خواجہ کا بطور ایم ڈی ، او جی ڈی سی ایل تقرر ، وزیراعظم کے زبانی احکامات پر ہوا تھا، آج عدالت نے پوچھا کہ عدنان خواجہ کے تقرر کی تفتیش نیب کرے گا یا یہ عدالت کرائے، پراسیکیوٹرجنرل نیب نے کہاکہ نیب صرف اتھارٹی کے غلط استعمال والے کیسز دیکھتا ہے، اس پر جسٹس آصف سعید نے کہاکہ کیامیٹرک پاس کو ایم ڈی تعینات کرنا ،اختیار کا غلط استعمال نہیں ہے ، سرکاری عہدے کے غلط استعمال پر نیب کا اقدام نہ کرنا ،سمجھ سے بالاتر ہے، عدالت نے عدنان خواجہ کے بطور ایم ڈی، او جی ڈی سی ایل تقرر کیخلاف نیب کو تحقیقات کا حکم بھی دیدیا، عدالت نے پوچھاکہ این آراو نظرثانی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد کیا سوئس حکام کا خط لکھاگیا، اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ رپورٹ سیکریٹری قانون نے دینا ہے جو ان دنوں ملک سے باہر ہیں، عدالت نے احمدریاض شیخ اور عدنان خواجہ کے تقرر پر عدالت نے آئیندہ سماعت پر چیئرمین نیب کو ذاتی طور پر طلب کرلیا، عدالت نے حکم میں کہاکہ تمام متعلقہ اداروں پر واضح کررہے ہیں کہ عمل نہ ہوا تو خواہ کتنا بڑا عہدے دار ہوا اس کے خلاف عدالت مناسب اقدام کرے گی، بعد میں سماعت 10 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔ .....
/169