یکم جنوری ۲۰۱۲ء ( ) شیعہ علماء کونسل صوبہ پنجاب کے صدر علامہ سید عبدالجلیل نقوی اور اراکین کابینہ مولانا عظمت علی ‘ چوہدری فداحسین گھلوی‘ سید ثناء الحق ترمذی‘ ایم ایچ بخاری‘ سید اظہار نقوی‘ سردار کاظم علی حیدری‘ مہر قیصر عباس دادوآنہ‘ فضل عباس جنجوعہ اور دیگر نے کراچی میں شیعہ علماء کونسل کے رہنما اور علامہ حسن ترابی شہید کے دیرینہ ساتھی عسکری رضا ایڈووکیٹ کی شہادت کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے گذشتہ واقعات کا تسلسل شمار کرتے ہوئے شیعان حیدر کرار (ع) کے قتل عام کی سازش کی ایک کڑی قرار دیا ہے۔شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں نے کہا کہ یکم محرم الحرام سے کراچی میں بھڑکائی جانے والے آگ کو دہشت گرد اپنی کاروائیوں سے اور حکمران اپنی مجرمانہ غفلت سے تیز کررہے ہیں لیکن دونوں اس حقیقت سے غافل ہیں کہ اگر انہوں نے یہ مجرمانہ انداز جاری رکھے تو وہ خود اس آگ میں بھسم ہوجائیں گے کیونکہ فرقہ پرست جنونی کسی کے دوست نہیں وہ انسانیت کے دشمن ہیں جو شیعہ سنی مکتب فکر کے قاتل ہونے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں‘ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور عام شہریوں کے بھی قاتل ہیں لیکن اس کے باوجود وفاقی اور صوبائی حکومتیں ان سے خوفزدہ ہیں جس کی وجہ سے دہشت گردوں کی کاروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔شیعہ علماء کونسل پنجاب کے رہنماؤں نے کہا کہ شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے اکابرین نے عسکری رضا اور دیگر شہریوں کے قاتل اور سرپرست گروہ سے وابستہ افراد کی گرفتاری کے حوالے سے جو موقف اختیار ہے اور دوران احتجاج جو مطالبات سامنے لائے ہیں ہم ان کی مکمل تائید اور حمایت کرتے ہیں۔ اگر حکمرانوں نے شیعہ علماء کونسل سندھ کے مطالبات کو تسلیم نہ کیا اور دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہ کی تو ہم پنجاب میں جاری سوگ کو احتجاج میں تبدیل کردیں گے اور یہ احتجاج ملک گیر شکل اختیار کرلے گا جس کی تمام تر ذمہ داری وفاقی اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔پریس سیکریٹری
۔۔۔۔۔۔۔
/110