ابنا: سعودي عرب ميں آل سعود حکومت کي سيکورٹي فورس کے ہاتھوں مظاہرين کي سرکوبي کے باوجود العواميہ شہر کے لوگوں نے بہت بڑا احتجاجي مظاہرہ کيا ہے جس کي مثال پچھلے مہينوں ميں نہيں ملتي - مظاہرين مطالبہ کررہے تھے کہ پچھلے دنوں مظاہروں کے دوران عوام کا قتل عام کرنے والوں پر مقدمہ چلاکر انہيں سزا دي جائے -
اس درميان خبري ذرائع نے خبردي ہے کہ جمعے کو ہونےوالے وسيع مظاہرے کے دوران ايک بار پھر سيکورٹي فورس نے مظاہرين پر تشدد کيا اور بڑي تعداد ميں مظاہرين کو گرفتار کرليا ہے- العالم ٹي وي کے مطابق مظاہرے کے شرکا نے آل سعود حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ ان لوگوں سے قصاص لے جنھوں نے پچھلے دنوں العواميہ شہر ميں مظاہرين پر فائرنگ کرکے کم ازکم چار سعودي نوجوانوں کو شہيد کرديا تھا -
مظاہرين اپنے ہاتھوں ميں شہدا کي تصاويراٹھائے ہوئے تھے اور وہ الشرقيہ صوبے کے گورنر محمد بن فہد کي برطرفي کا مطالبہ کررہے تھے-
دوسري طرف سعودي خواتين نے بھي ايک وسيع مظاہرہ کرکے الشرقيہ کے گورنر کي برطرفي اور جيلوں ميں قيد سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کيا- خواتين کے مظاہرے پر بھي سيکورٹي اہلکاروں نے فائرنگ کردي جس کے نتيجے ميں متعدد خواتين زخمي ہوگئيں -
العواميہ ميں وسيع پيمانے پر کئے گئے مظاہرے کے وقت ہي دوسرے مشرقي شہر القطيف ميں بھي سعودي عوام نے حکومت مخالف مظاہرہ کيا -اس مظاہرے ميں شريک خواتين نے سعودي حکومت کے ہاتھوں خواتين کے حقوق پمائمال کئے جانے کي مذمت کي اور تمام سياسي قيديوں کي رہائي کا مطالبہ کيا- مظاہرين کا مطالبہ تھا کہ جتنے بھي سياسي کارکنوں کو گرفتار کرکے کسي الزام کے بغير جيلوں ميں بند رکھا گيا ہے ان کے گھروالوں کو اس کا تاوان ادا کيا جائے -
دو روزقبل بھي العواميہ اور القطيف شہروں کے باشندوں نے مظاہرے کرکے بحريني عوام سے اپني يکجہتي کا اظہار کيا تھا اور مصرميں فوجي حکومت کے کارندوں کے ہاتھوں مظاہرين خاص طور پر قاہرہ ميں مظاہرہ کرنےوالوں پر ڈھائے جارہے مظالم کي مذمت کي - يہ ايسي حالت ميں ہے کہ سعودي عرب کے سياسي ، قانوني اور شہري حقوق کے ماہرين اور کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پورے ہونےتک احتجاجي مظاہرے جاري رکھيں گے خواہ اس کے عوض انہيں آل سعود کے تشدد اور جيل کا ہي سامنا کيوں نہ کرنا پڑے - سعودي عرب ميں آل سعود خاندان کے خلاف عوامي احتجاج ميں شدت کے ساتھ ہي لوگوں نے اب مساجد ميں بھي حکومت کے خلاف دھرنا دينا شروع کرديا ہے - پريس ٹي وي کے مطابق آل سعود حکومت کے مخالفين نے حکام کي پاليسيوں پر احتجاج کرتے ہوئے مساجد ميں دھرنا دينے کا منصوبہ بنايا ہے -
عوام کے اس فيصلے کے بعد آل سعود حکومت کي سيکورٹي فورس نے بہت سي مساجد منجملہ رياض ميں کئي مسجدوں کا محاصرہ کرليا ہے -
اس درميان سعودي عرب کے سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت رياض ميں سيکورٹي فورس کے اہلکار بڑي تعداد ميں سڑکوں پر تعينات ہوگئے ہيں - ان سياسي کارکنوں کا کہنا ہے کہ يہ احتجاج اس وقت تک جاري رہے گا جب تک حکومت ان کے مطالبات پورے ، اور سياسي قيديوں کو جيلوں سے رہا نہيں کرديتي - اس وقت سعودي عرب کي جيلوں تيس ہزار سے زائد سياسي کارکن کسي مقدمے کا سامنا کئے بغير قيد کي زندگي کاٹ رہے ہيں -
.......
/169