ابنا: مجلس وحدت مسلمین پنجاب کے سیکرٹری جنرل علامہ عبدالخالق اسدی اور مرکزی رہنما علامہ اظہر حسن کرڑ نے پنجاب یونیورسٹی میں جمعیت کے غنڈوں کی جانب سے آئی ایس او پاکستان کے نہتے کارکنوں پر فائرنگ اور پتھرا کی پرزور انداز میں مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہشرپسندوں نے یونیورسٹی کو باپ کی جاگیر سمجھ رکھا ہے اور ان غنڈوں کو مفاد پرستوں نے اپنے مخصوص مقاصد کے پال رکھا ہے، علامہ عبدالخالق اسدی نے کہا کہ آئی ایس او کی جانب سے پہلے ہی ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا جس کے لئے طلبہ رہنمائوں نے
یونیورسٹی انتظامیہ سے باقاعدہ اکازت نامہ حاصل کیا ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ سکیورٹی کے بلند بانگ دعوے کرتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ حملہ آور غنڈوں کے پاس یونیورسٹی کے حدود میں اسلحہ کہاں سے آ گیا۔ نہتے طلبہ پر فائرنگ سے ثابت ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کے ہاسٹلز اسلحہ ڈپو ہیں۔
انہوں نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور گورنر پنجاب سے سے اپیل کی ہے کہ یونیورسٹی میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا جائے اور جن ہاسٹلز میں اسلحہ کے ڈپو ہیں ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔ اس موقع پر علامہ اظہر حسن کرڑ نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے آئی ایس او کو باقاعدہ اجازت دی تھی کہ وہ یوم حسین کی مناسبت سے پروگرام کریں، لیکن غنڈوں نے عین موقع پر آ کر امام حسین کی شان میں بھی گستاخانہ نعرے لگا ئے اور اپنی رگوں میں یزیدی خون کی موجودگی کا ثبوت دے دیا۔
انہوں نے کہا کہ غنڈوں نے ثابت کر دیا کہ ان کا اسلام کے ساتھ دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، راہنمائوں نے طلبہ کو پرامن رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ آئی ایس او پاکستانکی تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ تعلیمی اداروں میں ماحول کو پرامن رکھا ہے ۔
انہوں آئی ایس او پاکستان کے کارکنوں کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے بھی تین روزہ سوگ کا اعلان کیا اور ملک بھر میں اپنے کارکنوں کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ تین روزہ سوگ کے دوران اس غنڈہ گردی کے خلاف احتجاج کریں۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک وفد تشکیل دیا ہے جو جلد وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی سے ملاقات کرئے گا اور یونیورسٹی میں اسلحہ کے ذخیرہ اور دہشتگردانہ کارروائیوں میں ملوث عناصر کے بارے میں تبادلہ خیال کرے گا۔.......
/169