22 دسمبر 2011 - 20:30

تہران کی مرکزی نماز جمعہ آيت اللہ جنتی کی امامت میں ادا کی گئي۔ آیت اللہ جنتی نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب کرتےہوئے کہا کہ عراقی عوام کی مزاحمت امریکیوں کی پسپائي کا اہم ترین سبب ہے۔

ابنا: خطیب جمعہ تہران نے عراق میں امریکی جارحین کے جرائم کی مذمت کرتےہوئے کہا کہ قابض فوجیں عراقی حکومت اور عوام کی مزاحمت کے نتیجے میں پسپائي اختیار کرنے پر مجبور ہوئيں اور یہ ملت عراق کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔

آيت اللہ جنتی نے کہا کہ عراق پر بیرونی افواج کے نو سالہ قبضے کے دوران لاکھوں عراقی جاں بحق اور زخمی ہوئےہیں اس کے علاوہ امریکی فوج نے عراق کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے جس کے نتیجے میں قابض فوجیوں کو رسوائي اور مذمت کے علاوہ کچھ نصیب نہیں ہوا ہے۔

آیت اللہ جنتی نے ایران میں سی آئي اے کےایک جاسوسی کی گرفتاری کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سکیورٹی اور ا نٹلجنس فورسس نے امریکہ کے اس جاسوس کو گرفتار کرکے سی آئي اے کو کاری ضرب لگائي ہے۔

خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ تیونس سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک کو ایک سال ہورہا ہے اور اسلامی بیداری کے سبب ہی تیونس، مصر اور لیبیا کے ڈکٹیٹروں کی حکومتوں کا خاتمہ ہوا ہے اور بحرین و یمن کے ڈکٹیٹر بس سرنگوں ہی ہونے والے ہیں۔

آيت اللہ جنتی نے بحرین اور یمن میں حکومتوں کی مجرمانہ کاروائيوں کی مذمت کرتےہوئے امید ظاہر کی کہ ان ملکوں میں بھی انقلاب کامیاب ہوگا اور بحرین و یمن میں بھی عوامی حکومتیں قائم ہونگی۔

آیت اللہ جنتی نے دو برس پہلے تیس دسمبر مطابق نو دی ماہ کو عوام کے عظیم مظاہروں کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ ایران کی بیدار قوم نے اس دن اپنی بصیرت کا ثبوت دیا تھا اور جب تک ملت ایران میدان میں ہے کوئي بھی اسلامی جمہوری نظام کو نقصان نہیں پہنچاسکتا۔.....

/169