22 دسمبر 2011 - 20:30

اسلام آباد …چیف جسٹس افتخارچودھری نے میموکیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ ملک میں اب کوئی ٹیک اوور ہوگا نہ ہی کوئی آئینی حد پار کرے گا، عدالت نے بابراعوان کی تنقیدی پریس کانفرنس پر وزیراعظم کے بیان کو ناقابل قبول کہہ کر دوبارہ دوٹوک موقف طلب کرلیا ہے۔

ابنا: چیف جسٹس افتخارچودھری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے نو رکنی لارجر بنچ نے میمو اسکینڈل کیس کی سماعت کی، مقدمہ کے درخواست گزاروں اسحاق ڈار ، خواجہ آصف ، غوث علی شاہ نے پٹیشنز کے قابل سماعت ہونے کے حق میں دلائل دیئے، دیگر پٹیشنرز راجافاروق حیدر، عبدالقادر بلوچ، اقبال ظفرجھگڑا کے وکلاء نے بھی ابتدائی دلائل مکمل کئے، ایک موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہاکہ ہرشخص اور ادارہ معتبر ہے ،عدالت میں سیاسی باتیں نہ کی جائیں ، صدر، آرمی چیف اور سب فریقین کیلئے موقع ہے کہ اب مکمل تحقیقات ہوجائیں۔

انہوں نے کہاکہ الزام ثابت ہونے تک ملزم معصوم ہوتا ہے، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کررہی ہے لیکن اس سے عدالت کو آئینی ذمہ داری پورا کرنے سے روکا نہیں جاسکتا، عبدالقادر بلوچ کے وکیل کا دعویٰ کیاکہ حسین حقانی امریکی شہری ہیں تو چیف جسٹس نے کہاکہ وہ پاکستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں، غوث علی شاہ نے جب وزیراعظم کے گزشتہ روز والے بیان کا حوالہ دیا تو چیف جسٹس نے کہاکہ وہ دن گئے جب غیرآئینی حکومت کی عدالت سے توثیق کرالی جاتی تھی، اب صرف آئین پر عمل ہوگا، وفاق کے بیان حلفی پر مبنی جواب نہ آنے پر چیف جسٹس نے کہاکہ آرمی چیف کے مطابق وزیراعظم ہاوٴس کی میٹنگ میں حقانی سے استعفیٰ لیا گیا،ایسا کیوں ہوا، یہ دیکھنا پڑے گا،عدالت نے اس کیس میں ایک کینیڈین شہری کی درخواست والی پٹیشن پر صدر، وزیراعظم سمیت فریقین کو پھر نوٹس جاری کردیئے ،اٹارنی جنرل نے بابراعوان کی پریس کانفرنس پر وزیراعظم کا بیان پیش کیا تو ججز نے کہاکہ وہ پیپلز پارٹی اور وزیراعظم سے توقع نہیں رکھتے کہ عدلیہ کی تضحیک کرائیں، اس پریس کانفرنس کیلئے سرکاری دفترکیوں استعمال کیا، بیان مبہم ہے ، اسے دو ٹوک انداز میں پیش کیا جائے، بعد میں سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کردی گئی۔  ..............

/169