20 دسمبر 2011 - 20:30

عراق کے دولۃالقانون اتحاد کے رکن نے کہا: قطر سمیت خلیج فارس کی بعض ریاستیں عراق میں تفرقہ اندازی اور اس ملک کے امن و استحکام کو متزلزل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق محمدالعقیلی نے العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے عرب لیگ میں شام کے بارے میں عراقی موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: عراق کا مختلف موقف اس بات کا اظہار ہے کہ یہ ملک عرب ليگ میں مستقل کردار کا مالک ہے اور یہ کہ عراق نے علاقائی کردار ادا کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی ہے۔ انھوں نے کہا: بعض عرب ممالک مصر، لیبیا، تیونس اور یمن کے کے سلسلے میں معذرتخواہانہ کردار ادا کرتے رہے اور اب وہ عرب لیگ کے دائرے میں عرب فیصلہ سازی پر مسلط ہونے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ عراق علاقائی معاملات میں کوئی کردار ادا نہ کرسکے۔ انھوں نے کہا: ظاہر ہے کہ عراق اگر اپنے مسائل حل کرلے اور اپنی مشکلات پر غلبہ پالے تو بے شک بین الاقوامی اور علاقائی سطح پر کردار ادا کرسکے گا اسی لئے ریاست قطر سمیت بعض عرب ممالک عراق میں اختلافات کو ہوا دے رہے اور کردار کا کردار زیادہ واضح ہے وہ کوشش کررہے ہیں کہ عراق سے امریکی افواج کے انخلاء سے پیدا ہونے والے حالات سے ناجائز فائدہ اٹھاکر اس ملک میں جاری سیاسی عمل کا راستہ روکا جاسکے۔انھوں نے کہا: قطر کو یقین ہے کہ عراق بڑی تیزرفتاری سے اپنا علاقائی اور بین الاقوامی مقام واپس حاصل کررہا ہے اسی لئے وہ عراق کے اندرونی اختلافات کو ہوا دے کر عراق کو اپنا مقام و کردار حاصل کرنے سے روکنے کی اپنی سے کوشش کررہا ہے۔ عراق پر حملے کے دوران امریکہ کے ساتھ قطر کا قریبی تعاون/ قطر اسٹریٹجک پارٹنرواضح رہے کہ امریکہ کو اس وقت بین الاقوامی سطح پر اس بڑے سوال کا سامنا ہے کہ اس نے کس جواز کی بنا پر عراق پر حملہ کیا تھا اور امریکی بھی اپنی پوری قوت صرف کرکے اس جنگ کے لئے جواز ڈھونڈ رہے ہيں لہذا اسی اثناء میں امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قطر نے 2003 میں عراق پر حملے کے دوران امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون کیا تھا۔ دریں اثناء خبر رساں ایجنسیوں نے رپورٹ دی ہے اب جبکہ اوباما انتظامیہ وائٹ ہاؤس میں اپنے آخری مہینے گذار رہے ہیں عراق کی جنگ کے لئے متعدد بہانے ڈھونڈنے میں مصروف ہیں؛ اسی اثناء ميں امریکی وزارت خارجہ نے اپنی مختصر سی رپورٹ میں "قطر اور امریکہ کے درمیان مستحکم روابط" اور 2003 میں عراق پر حملے کے دوران امریکی ہیڈکوارٹر کی حیثیت سے قطر کے قریبی تعاون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ قطر نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے ساتھ متعدد دفاعی معاہدے منعقد ہوئے ہیں۔  امریکی وزارت خارجہ نے قطر کے ساتھ سفارتی اور فوجی تعلقات پر تأکید کی ہے۔اسی اثناء میں بہت سے عرب ممالک کے حکمرانوں نے کہا ہے کہ وہ صدام کے زوال کے حامی نہیں تھے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ عراق مستقبل میں امریکی ریشہ دوانیوں کے اڈے میں تبدیل ہوسکتا ہے۔امریکی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ قطر کے ساتھ امریکہ کے روابط "خاص" ہیں اور واشنگٹن اور دوحہ علاقائی سفارتی پروگراموں میں مکمل طور پر ہماہنگ ہیں اور قطر اور امریکہ کے درمیان خاص طور پر توانائی کے شعبے میں تعاون موجود ہے اور یہ کہ بارہ ہزار امریکی فوجی قطر میں تعینات ہیں۔ واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ نے قطر کو سعودی عرب کے متبادل کے طور پر اپنی پالیسیاں آگے بڑھانے کے لئے استعمال کرنا شروع کیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ مصر کے انقلاب کے بعد حکومت نے حسنی مبارک کا ساتھ چھوڑا تو امریکہ پر سعودیوں کا اعتماد کم ہوگیا گو کہ بحرین میں سعودیوں نے امریکہ کے کہنے پر مداخلت کی ہے لیکن اس موضوع کا تعلق قطر کے منظر عام پر آنے سے قبل کے مہینوں سے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110