ابنا: حقیقت میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کے خلاف ایسی سازش تیار کی جارہی ہے جس کی وجہ سے اس ملک کا سیاسی استحکام اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ عراق میں رونما ہونے والے حالیہ دنوں کے چند واقعات اور اس ملک کے خلاف بعض عرب ممالک کی جانب سے انجام دیۓ جانے والے اقدامات سے بھی اسی حقیقت کی تصدیق ہوتی ہے۔
عراق کی پارلیمنٹ سے العراقیہ اتحاد کا خارج ہونا بغداد حکومت کے خلاف کی جانے والی سازش کا ہی حصہ ہے۔ العراقیہ اتحاد کے اس اقدام کے بعد اس اتحاد کے وزراء بھی کابینہ سے نکل گۓ ہیں۔ امریکہ کی عراق مخالف جنگ کے خاتمے کے اعلان کے چند ہی دن بعد کۓ جانے والے یہ اقدامات کوئي اتفاقی نہیں ہیں۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ العراقیہ اتحاد واشنگٹن کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر نوری مالکی کی کابنیہ کو کمزور کرنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرنے کے درپے ہے۔
خاص طور اس بات کے پیش نظر کہ ابھی تک نوری مالکی کی کابینہ میں قومی سلامتی اور دفاع کی وزارتوں کے قلمدان کسی کو نہیں سونپے گۓ ہیں۔ اور العراقیہ اتحاد زیادہ وزارتوں کے حصول کے لۓ نوری مالکی کی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے درپے ہے۔ یہ سارے واقعات ایسی حالت میں رونما ہوۓ ہیں کہ جب امریکہ بھی عراقی سیکورٹی فورسز کو تربیت دینے کے لۓ عراق میں رہنے والے امریکی فوجیوں کو عدالتی تحفظ فراہم کرنے کے لۓ اصرار کررہا ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنے اتحادی ملکوں سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔
عراق کے سیکورٹی کے ذرائع نے حالیہ دنوں میں عراق کے خلاف بعض عرب ممالک کی جانب سے کۓ جانے والے اقدامات سے پردہ اٹھایا ہے۔ سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب امارات کا شمار ان عرب ممالک میں ہوتا ہے جو عراق کے ساتھ دشمنی کے علمبردار بنے ہوۓ ہیں۔ بعثیوں کے ساتھ رابطہ برقرار کرنا خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے عراق مخالف اقدامات کا ایک حصہ ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران عراق میں ایک بار پھر دہشتگردانہ سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوگئي۔ سعودی عرب اور قطر بھی بعثیوں اور سلفیوں کو استعمال کر کے عراق میں فرقہ واریت پھیلانے کے درپے ہیں۔
عراق کی سیکورٹی فورسز نے حال ہی میں بعض دہشتگردوں کو گرفتار کیا ہے جو سعودی عرب کی مدد کے ساتھ اردن کی سرحد سے عراق کی سرزمین میں داخل ہوۓ ہیں اور عراق میں بعض سنی شخصیات کو قتل کر کے یہ ظاہر کرنا چاہتے تھے کہ ان کو اہل تشیع نے قتل کیا ہے۔ یہ ہیں عراق کے خلاف تیار کی جانے والی بعض سازشیں۔ اور ان سازشوں کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ بغداد حکومت عراق کی صورتحال پر قابو پانےکی صلاحیت نہیں رکھتی ہے اس لۓ اس ملک میں امریکہ کی فوجی موجودگی ضروری ہے۔
لیکن ان تمام تر سازشوں کے مقابلے میں نوری مالکی کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ پوری طاقت کے ساتھ عراق کے سیاسی استحکام اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کا مقابلہ کرے گی اور کسی بھی غیر ملکی طاقت کو اپنے ملک کے داخلی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دے گی۔ حالیہ دنوں میں عراق کے مختلف علاقوں سے دسیوں دہشتگردوں کی گرفتاری اور اس ملک کے مختلف شہروں میں داخل ہونے والے راستوں میں چیک پوسٹوں میں کۓ جانے والے اضافے سے اس بات کا واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ عراقی حکومت اس ملک کے استحکام اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں پر عزم ہے۔.............. /169