ابنا: علی اکبر صالحی نے سنیچر کے روز ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران کی مسلح افواج نے کسی بھی ملک کی مدد کے بغیرامریکی ڈرون طیارے کو کم سے کم نقصان کے ساتھ زمین پر اتار لیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران سے ڈرون طیارے کو واپس مانگنے کی امریکی درخواست کو مسترد کردیا اور کہا کہ اس طیارے کو اپنے اختیار میں لینے سے دنیا والوں کے سامنے ایران کی مسلح افواج کی صلاحیت ثابت ہوگئي۔
علی اکبر صالحی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی کنونشنوں کے دائرے میں امریکہ کے ذریعہ ایرانی فضائي حدود کی خلاف ورزی کا جائزہ لے رہا ہے۔انہوں نے ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری سعید جلیلی کے حالیہ دورۂ روس کا امریکی جاسوس طیارے سے ربط دینے پر مبنی دعووں کو مستردکرتے ہوئے کہا کہ سعید جلیلی علاقے کے تغیرات کے بارے میں تبادلۂ خیال کے لئے روس گئے تھے۔
علی اکبر صالحی نے ایرانی تیل اور توانائي کے ذخائر پر پابندی پر مبنی بعض مغربی حکام کے بیانات کے بارے میں کہا کہ اس اقدام پر آسانی کے ساتھ عمل درآمد نہیں ہوسکتا تاہم ایران بدترین صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔
انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران کسی بھی تصادم اور مقابلہ آرائی کا خیر مقدم نہیں کرتا کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران علاقے میں امن و استحکام اور سلامتی کا خواہاں ہے لیکن کسی بھی امکانی حملے سے مقابلے میں پوری طاقت سے اپنا دفاع کرے گا۔....... /169