13 دسمبر 2011 - 20:30

اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بحرینی عوام کا دھرنا / اقوام متحدہ کی ٹیم کے سامنے انسانی حقوق کی پامالی / عرب ليگ کے سامنے آل خلیفہ کے جرائم کی تصویری نمائش اور احتجاجی دھرنا/ انسانی حقوق کمیشن کے سامنے آل خلیفہ کے جرائم فاش کریں گے / بحران کے حل کا واحد راستہ عبوری حکومت کی تشکیل ہے / برطانیہ میں خلیفی بادشاہ کی تجویز بحرینی سیاستدانوں نے مسترد کردی/ اسیر ڈاکٹروں پر عجیب الزامات/ آل خلیفہ الجھن کا شکار؛ بادشاہ مکار اور دھوکے باز ہے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ  کی رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کی غاصب بادشاہت کے مظالم و جرائم کے خلاف بحرینی عوام کی پرامن تحریک جاری و ساری ہے گوکہ دوسری طرف سے عرب لیگ، انسانی حقوق کی تنظیمیں، انسانی حقوق اور جمہوریت کے مغربی دعویدار اور پیشہ ورانہ صحافت کے دعویدار عالمی اور عرب ذرائع ابلاغ کی مجرمانہ خاموشی بھی جاری ہے۔ ذیل میں آنے والی خبروں اور رپورٹوں کا تعلق انقلاب بحرین کے تین سو چارویں دن سے ہے:ــ دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے بحرینی عوام کا دھرنابحرینی عوام نے بدھ کے روز شام کے وقت دارالحکومت منامہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا۔ بحرینی عوام نے اس دھرنے کا نعرہ "بحرین انسانی حقوق کے بغیر" قرار دیا تھا اور دھرنا دینے والوں نے ایک خط بحرین کے لئے مخصوص انسانی حقوق کمیشن کے سپرد کردیا۔بحرینی معترضین نے بین الاقوامی تنظیموں سے بالخصوص اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اپنی خاموشی توڑ دیں اور بحرین میں آل سعود کی حمایت میں آل خلیفہ کی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ روک دیں اور انسانی حقوق کے تقاضے پورے کرنے کے لئے بحرین میں مداخلت کریں۔ اس خط میں آل خلیفہ کے اقدامات کی تفصیل بتاتے ہوئے نوامیس پر مجرمانہ حملوں، خواتین کی گرفتاری اور ان کے ٹارچر اور مساجد کے انہدام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ــ بحرین میں اقوام متحدہ کی ٹیم کی آنکھوں کے سامنے انسانی حقوق کی پامالیآل خلیفہ حکمرانوں کو بظاہر یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیم حقائق جاننے کے لئے نہیں بلکہ بحرینی عوام کو ناامید کرنے کے لئے بحرین بھجوادی گئی ہے اسی لئے منامہ میں اقوام متحدہ کی ٹیم کی موجودگی میں اور اور ٹیم کے اراکین کی نظروں کے سامنے بحرینی عوام پر جبر و تشدد کا سلسلہ جاری رہا۔موصولہ رپورٹ کے مطابق خلیفی حکومت نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی موجودگی ميں ہی بحرینی عوام کو کچل دیا۔دوسری طرف سے دنیا اور اس کے ملکوں اور تنظیموں سے نا امید اور اپنی تحریک پر یقین رکھنے والے بحرینیوں نے بھی اپنے جائز حقوق و مطالبات کے حصول کے لئے وسیع مظاہرے کیا، دھرنے دیئے اور احتجاج کیا لیکن انسانی حقوق کمیشن کے وفد کے آتے ہیں آل خلیفہ کے گماشتوں نے ان مظاہروں پر حملہ کیا اور آنسو گیس، زہریلی گیس، آتشی گولے، صوتی بموں کا وسیع استعمال کیا گیا اور تیزدھار آلات مظاہرین کی طرف پھینکنے کے واقعات دہرائے گئے جبکہ گاڑیوں کے ذریعے مظاہرین کو کچلنے کی کوششیں بھی جاری رہیں۔آل خلیفہ کے گماشتوں نے کل جمعیۃالوفاق الاسلامی کی کال پر "قوم کی فتح یقینی ہے" کے عنوان سے منقدہ احتجاجی ریلی پر بھی وحشیانہ حملے کئے۔ بحرین 14 فروری سے عوامی انقلاب کے سلسلے میں ہونے والے احتجاجی جلسوں، ریلیوں، مظاہروں اور دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن امریکہ، برطانیہ اور سعودی عرب آل خلیفہ کو بچانے کے لئے باقاعدہ مداخلت کئے بیٹھے ہيں اور ان میں سے ہر ایک کا کردار روز بروز زیادہ سے زیادہ منکشف ہورہا ہے۔ــ عرب ليگ ہیڈ کوارٹر کے سامنے آل خلیفہ کے جرائم کی تصویری نمائش بحرین اور مصر کے سرگرم سیاسی اور سماجی کارکنوں اور صحافیوں نے مصری دارالحکومت قاہرہ میں بحرینی آل خلیفہ خاندان کے مظالم و جرائم پر احتجاج کرتے ہوئے آل خلیفہ کے جرائم اور مظالم پر مبنی تصویری نمائش لگائی اور بحرین انسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم کے سامنے عرب لیگ کی مجرمانہ خاموشی کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اس نمائش میں آل سعود اور آل خلیفہ کے جلادوں کی گولیوں سے شہید ہونے والے بحرینیوں کی تصویریں نیز پر امن مظاہرین کے خلاف آل خلیفہ و آل سعود خاندان کے اقدامات پر مبنی تصاویر رکھی گئی ہیں۔  عرب لیگ کے سامنے دھرنا دینے والوں نے بحرین کے واقعات کے ابلاغی بائیکاٹ نیز بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی مذمت کی اور عرب لیگ نیز بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ملت بحرین کے حوالے سے اپنے فرائض منصبی پر عملدرآمد کریں اور بحرین میں جاری ظلم و تشدد روکنے کے لئے قدم اٹھائیں۔

ــ بحرین/ نرس ایسوسی ایشن کے سربراہ: انسانی حقوق کمیشن کے سامنے آل خلیفہ کے جرائم فاش کریں گےسیکریٹری جنرل نرس ایسوسی ایشن آف بحرین کے سربراہ نے کہا: بحرین کی سول سوسائٹی کے اراکین اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اراکین سے ملاقاتوں میں عوام کی نوامیس کی عزت پر حملوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل سمیت آل خلیفہ خاندان کے جرائم کو فاش کردیں گے۔ابراہیم الدمستانی نے نے بدھ کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا: کل (جمعرات کے روز) بحرینی سول سوسائٹی کے نمائندے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے اراکین سے ملاقات کریں گے اور اس ملاقات میں گذشتہ گیارہ مہینوں کے دوران آل خلیفہ کے انسانیت سوز جرائم پر مشتمل ایک مکمل رپورٹ کمیشن کو پیش کریں گے اورمیٹنگ کے دوران ان جرائم اور مظالم کا جائزہ لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا: طے یہ پایا تھا کہ خلیفی اذیتکدوں میں پابند سلاسل اسیروں کے اہل خانہ اور مختلف اداروں اور کمپنیوں سے برخاست کئے جانے والے مزدور اور ملازمین بدھ کے روز صبح کے وقت اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا دیں لیکن سرکاری فورسز نے جبر و تشدد کے ذریعے انہیں دھرنے نہیں دینے دیا۔ الدمستاني نے کہا: آل خلیفہ کی فورسز کی جانب سے دھرنا نہ دیئے جانے کے بعد دھرنے کے لئے آنے والے مزدوروں اور ملازمین نیز اسیروں کے اہل خانہ نے وزارت محنت کی عمارت کا رخ کیا اور اپنے حقوق کے حصول پر زور دیتے ہوئے اپنے روزگار پر فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔نرس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نے واضح کیا کہ حکومت نے ایسے حال میں عوام کو دھرنے سے تشدد کے ذریعے روک لیا کہ انھوں نے دھرنے کے لئے باقاعدہ اجازت حاصل کی تھی۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے دھرنا صبح کے بجائے شام کو دیا گیا۔ــ بحرین: بحران کے حل کا واحد راستہ عبوری حکومت کی تشکیل ہےبحرینی عوام نے منگل کے روز آل خلیفہ کے کے مظالم کے خلاف "قوم کی فتح یقینی ہے" کے شعار کے تحت احتجاجی اجتماع منعقد کیا۔ منگل کے روز بحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت جمعیۃالوفاق الاسلامی کی دعوت پر ہزاروں افراد نے "قوم کی فتح یقینی ہے" کے شعار کے تحت احتجاجی اجتماع بپا کیا اور عوام کو قلع قمع کرنے کے سلسلے میں آل خلیفہ خاندان کی ظالمانہ پالیسیوں کی مذمت کی۔ یہ اجتماع منگل کی شام کو المقشع کے مقام پر برپا کیا گیا اور بحرین کے "ترانہ گروپوں" نے ملک سے محبت اور وطن کی آزادی کی راہ میں جان نثاری" کے حوالے سے بحرین کے قومی ترانے گائے۔ اس اجتماع سے الوفاق کے خواتین و اطفال کے شعبے کی سربراہ نے بھی خطاب کیا اور عوام کی پامردی اور عوام کے پر امن اقدامات کوملت بحرین کی کامیابی کی علامت قرار دیا اور بحرین کی انقلابی تحریک کے پرامن ہونے پر زور دیا۔ انھوں نے کہا: بحرین میں بحران کے حل کا واحد راستہ یہ ہے کہ عبوری حکومت تشکیل دی جائے جبکہ کسی بھی قسم کے نمائشی مذاکرات عوام کے دکھ درد کا مذاق اڑانے اور شہدائے انقلاب کی جانفشانیوں کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہونگے۔ ــ برطانیہ میں خلیفی بادشاہ کی تجویز بحرینی سیاستدانوں نے مسترد کردیبحرین کی سب سے بڑی سیاسی جماعت "جمعیۃالوفاق الاسلامی" کے رکن سیکریٹری ایٹ نے کہا ہے کہ بحرین کی سیاسی جماعتیں لندن کے حالیہ دورے کے دوران خلیفی بادشاہ "حمد بن عیسی آل خلیفہ" کی اس تجویز کو شدت سے مسترد کرتی ہیں کہ "مخالفین میں سے ایک مشیر مقرر کرنے کے لئے تیار ہیں"۔ مجید میلاد نے خلیفی بادشاہ کے دورہ برطانیہ اور لندن میں ان کے اعلان کردہ موقف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حمد بن عیسی آل خلیفہ کے اس دورے کا بحرین میں اعلان نہیں ہوا تھا اور اصولی طور پر یہ دورہ بحرینی عوام سے خفیہ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی اور ہم بعض بیرونی ممالک کے ذرائع ابلاغ کے توسط سے اس دورے سے آگاہ ہوئے۔ انھوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ حمد بن عیسی آل خلیفہ نے برطانیہ میں کہا ہے کہ وہ مخالفین میں سے اپنے لئے کئی مشیر متعین کریں گے لیکن ہم کہتے ہیں کہ "ہم بادشاہ کے مشیر نہیں بننا چاہتے"۔ مجید میلاد نے کہا: لگتا ہے کہ آل خلیفہ کے بادشاہ نے برطانوی وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون سے ملاقات اور صلاح مشورہ کیا ہے تا کہ ان کی ہدایت پر ملک میں اپنی مطلوبہ اصلاحات نافذ کریں لیکن آل خلیفہ کی حکومت کے مخالفین ان مضحکہ خیز اصلاحات کو ہرگز قبول نہیں کریں گے کیونکہ اس اصلاحات کی سطح عوامی مطالبات کی نسبت بہت ناچیز اور ناقابل ذکر ہے۔  جماعت "جمعیۃالوفاق الاسلامی" کے رکن سیکریٹری ایٹ نے  کہا: بحرینی عوام آج ماضی کی نسبت کہیں زیادہ ہوشیار اور بیدار ہیں اور پورے حقوق کے حصول تک اپنے مطالبات پر اصرار کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا: بسیونی رپورٹ کے منظر عام پر آنے سے ایک مہینے کا عرصہ گذر چکا ہے لیکن اس عرصے میں عوام کے ساتھ آل خلیفہ کا رویہ پہلے سے کئی گنا تشدد آمیز اور وحشیانہ ہوچکا ہے، امن و امان کے حوالے سے ملک کی صورت حال مزید خراب ہوگئی ہے اور آل خلیفہ کے فوجیوں کا رویہ بھی عوام کے ساتھ کئی گنا بدتر ہوچکا ہے۔ انھوں نے کہا: ہم کسی صورت میں بھی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں ہونگے کہ بادشاہ کے مخالفین کو ان کے مشیروں کا عہدہ دیا جائے اور یہ مسئلہ عوام اور معترضین کی سرکوبی کا وسیلہ بن جائے۔ انھوں نے کہا: بحرین کی موجودہ صورت حال کی بہتری کا واحد راستہ یہ ہے کہ ملک میں عبوری حکومت قائم کی جائے۔

ــ آل خلیفہ کی طرف سے اسیر ڈاکٹروں پر عجیب الزاماتبحرین کی نرس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل نے فاش کیا ہے کہ خلیفی اٹارنی جنرل نے اسیر ڈاکٹروں پر نئے اور عجیب الزامات لگاتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ وہ اپنے پاس چاقو اور خنجر رکھتے تھے اور عوام کو سنی اقلیت کے خلاف اکسا رہے تھے!۔نرس ایسوسی ایشن کے سیکریٹری جنرل ابراہیم الدمستانی نے انکشاف کیا ہے کہ آل خلیفہ کے اٹارنی جنرل کی طرف سے اسیر ڈاکٹروں پر لگائے گئے نئے اور عجیب الزامات ان کے پیشے سے مطابقت نہیں رکھتے اور پھر ان ڈاکٹروں میں کئی ایسے ہیں جن کی اہل سنت کے ساتھ قریبی رشتہ داریاں ہیں۔انھوں نے کہا: عجیب بات یہ ہے یہ ہتھیار رکھنے کے الزامات ایسے ماہر اور اسپیشلسٹ ڈاکٹروں پر لگائے گئے ہیں جو کسی حال میں ہتھیار رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوسکیں گے۔ انھوں نے کہا: خلیفی عدلیہ کی طرف سے ڈاکٹروں کے خلاف یہ عجیب الزامات ایسے حال میں سامنے آئے ہیں کہ خلیفی بادشاہ کی اپنی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ البسیونی نے اپنی رپورٹ میں ڈاکٹروں کو ہر قسم کے خلیفی الزام سے بری الذمہ قرار دیا ہے اور ان کے خلاف چاقو یا خنجر رکھنے کے الزامات ک