11 دسمبر 2011 - 20:30

مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کی روشنی میں امریکہ نے شمسی بیس خالی کر دیا ہے ۔ یہ ائربیس بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 320 کلومیٹر دور جنوب مغربی ضلع واشک میں واقع ہے۔

ابنا: مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کی روشنی میں امریکہ نے شمسی بیس خالی کر دیا ہے ۔ یہ ائربیس بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 320 کلومیٹر دور جنوب مغربی ضلع واشک میں واقع ہے۔  اسے تقریبا تیس سال قبل سعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے تعمیر کروایا تھا اور ہر سال گرمیوں کے موسم میں عرب شیوخ تلور کا شکار کرنے یہاں آیا کرتے تھے۔

سال 2001 میں افغانستان میں طالبان حکومت کو گرانے اور القاعدہ کیخلاف آپریشن شروع کرنے کے لیے پہلی بار امریکی فوج نے شمسی ائربیس کا استعمال شروع کیا۔ سال 2002 میں شمسی ائربیس کے قریب ایک امریکی فوجی طیارہ فنی خرابی کے باعث گر کرتباہ ہوا۔ سال2001 سے سال 2006 تک امریکی اور نیٹو افواج نے شمسی ائیربیس کو باقاعدگی سے افغان طالبان اور القاعدہ کے خلاف استعمال کیا۔

امریکہ نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی طالبان کے خلاف ڈرون حملوں کے لیے بھی شمسی ائیربیس کا استعمال کیا۔ 2009 میں انکشاف ہوا کہ ڈرون طیارے شمسی ائیربیس سے پرواز کرتے ہیں۔رواں سال اپریل میں پاکستان اور امریکہ نے مشترکہ طور پر اعلان کیا کہ شمسی ائیربیس سے ڈرون پروازوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ تیرہ مئی 2011 کو پارلیمنٹ کے ان کیمرہ مشترکہ اجلاس میں عسکری قیادت نے انکشاف کیا کہ شمسی ائیربیس اس وقت پاکستان کے نہیں بلکہ عرب امارات کے کنٹرول میں ہے۔ چھبیس نومبر 2011 کو مہمند ایجنسی میں پاکستانی چیک پوسٹ پر نیٹو حملے کے بعد پاکستان نے امریکہ کو پندرہ دن کے اندر شمسی ائربیس خالی کرنے کا الٹی میٹم دے دیا، جس کے بعد امریکہ نے اسے خالی کر دیا ہے۔...........

/169