11 دسمبر 2011 - 20:30

قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے عوام کي وسيع موجودگي اور ان کے ايمان کي طاقت کو کاميابيوں کا سرچشمہ قرار ديا ہے -

ابنا: قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے پير کي صبح نو دي مطابق تيس دسمبر کے عظيم واقعے کي ياد منانے کي کميٹي کے اراکين سے خطاب ميں فرمايا کہ نو دي ماہ تيرہ سو اٹھاسي مطابق تيس دسمبر دوہزار نو کا واقعہ انقلاب کي حقيقي ماہيت يعني لوگوں کے دلوں پر دينداري کي حکمراني کا مظہر تھا-

آپ نے اس واقعے کے دو بنيادي عناصر عوام کي وسيع موجودگي اور دين پر ان کے ايمان کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ تيس دسمبر کا واقعہ کوئي معمولي واقعہ نہيں ہے بلکہ يہ عوام کي عظيم اور ہميشہ باقي رہنے والي تحريک ہے -

آپ نے فرمايا کہ اس واقعے کي سالگرہ پر يہ کوشش ہوني چاہئے کہ ايراني قوم کي اصل بات يعني دين اور وعدہ الہي کي تکميل کے سائے ميں تحريک کو بيان کيا جائے-

قائد انقلاب اسلامي نے فرمايا کہ دنيا کے جس حصے ميں بھي عوام معينہ ہدف، ايمان، اور مناسب عمل کے ساتھ ميدان ميں آئيں، تو کوئي بھي عامل ان کے مقابلے ميں تاب مقاومت نہيں لاسکتا- قائد انقلاب اسلامي آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے نو دي مطابق تيس دسمبر کے واقعے ميں محرم اور عاشورا کے کردار کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ جس طرح اسلامي انقلاب کے آغاز ميں محرم نے ايراني عوام کي مدد کي اور امام خميني رحمت اللہ عليہ نے فرمايا کہ تلوار پر ِخون کامياب ہے ، اسي طرح تيس دسمبر کے واقعے ميں بھي عاشورا نے يہ عظيم کارنامہ رقم کرنے ميں ايراني قوم کي مدد کي ہے -

قابل ذکر ہے کہ دو ہزار نو ميں ايران کے صدارتي انتخابات کے تعلق سےتلخ حوادث کے دوران تھوڑے سے منافقين اور فتنہ پرور شرپسندوں نے عاشورکے دن اسلامي نظام اور اسلامي اقدار کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے عزاداران حسيني پر حملہ کرديا تھا - اس واقعے کے بعد نودي ماہ مطابق تيس دسمبر دو ہزار نو کو دارالحکومت تہران سميت ايران کے تمام شہروں ميں کروڑوں کي تعداد ميں عوام نے عظيم الشان مظاہرے کرکے منافقين اور فتنہ پرور شر پسندوں کے اس اقدام کي مذمت کي................

/169