ابنا: صدر احمدی نژاد نے اس ٹیلفونی گفتـگو میں عاشورا کو عزاداروں پر ہونے والے حملے پر افسوس ظاہر کر تےہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ افغان قوم کے دشمن نہیں چاہتے کہ افغانستان میں اتحاد اور امن قائم رہے۔
انہوں نے افغانستان کی ملت و حکومت کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتےہوئے ان واقعات میں متاثر ہونے والوں کے اھل خانہ کے لئے صبر کی دعا کی اور کہا کہ جو لوگ بے دفاع عزاداران حسینی پرحملہ کرتے ہیں وہ انسانیت، دین اور برادری کے حقیقی دشمن اور بڑے پست ہیں اور اس طرح کے اقدامات سے افغانستان میں قیام امن و استحکام کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کرنا چاہتےہیں۔
اس گفتگو میں افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے صدر احمدی نژاد کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عاشورا کے سانحے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج علاقے کے حالات کچھ ایسے ہیں کہ ایران اور افغانستان کی قوموں کو زیادہ سے زیادہ مل کر امن و استحکام کی برقراری کے لئے کام کرنا چاہیے۔............ /169