30 نومبر 2011 - 20:30

امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے حساس ترین موقع پر غیرمتوقع طور عراق کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق امریکہ کے لیے اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ صدر باراک اوباما نے اپنے نائب کو بغداد روانہ کیا ہے۔

ابنا: امریکہ کے نائب صدر جو بائیڈن نے حساس ترین موقع پر غیرمتوقع طور عراق کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے سے ظاہر ہوتا ہے کہ عراق امریکہ کے لیے اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ صدر باراک اوباما نے اپنے نائب کو بغداد روانہ کیا ہے۔ لیکن امریکہ کے لیے عراق کے موجودہ حالات کی حساسیت اس وجہ سے ہے کہ مستقبل قریب میں عراق میں امریکی فوجیوں کی صورت حال میں تبدیلی رونما ہونے والی ہے۔ ایسی تبدیلی جو وائٹ ہاؤس کے حکام اور ان لوگوں کے لیے خوش آئند نہیں ہو گي جنہوں نے عراق کے لیے طویل مدت منصوبے بنائے تھے۔

لیکن یہ عراقیوں کے لیے ایک اہم واقع ہے کہ جو آٹھ سال سے اپنے ملک کو امریکی فوجی قبضے میں دیکھ رہے ہیں۔ بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے مطابق دو ہزار گیارہ کے آخر تک یعنی ٹھیک ایک ماہ بعد تمام امریکی فوجیوں کو عراق سے نکل جانا ہے۔ یہ ایسے وقت میں ہے کہ جب بعض شواہد سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ عراق سے مکمل طور پر نکلنا نہیں چاہتا ہے۔ اگرچہ حال ہی میں امریکی اور عراقی حکام کے درمیان ہونے والے بعض سمجھوتوں کی رو سے امریکی فوجیوں کی کچھ تعداد عراقی فوجیوں کو ٹریننگ دینے کے لیے انسٹرکٹر کی حیثیت سے کچھ عرصے کے لیے عراق میں باقی رہے گي لیکن عراق میں امریکی فوجیوں کو عدالتی تحفظ کی بحث ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے۔ امریکی حکام اس مسئلے پر عراق پر سخت دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ شاید وہ عراقی حکام کو اس بات پر راضی کر سکیں کہ وہ عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو عدالتی تحفظ دے دیں لیکن ابھی تک انہیں اس سلسلے میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ بعید نہیں ہے کہ امریکی نائب صدر جو بائیڈن کا دورۂ عراق اسی مقصد سے انجام پایا ہو۔ لیکن یہ طے ہے کہ امریکی نائب صدر کے دورے کے دوران امریکہ اور عراق کے تعلقات خاص طور پر بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات کی نوعیت پر بات کی جائے گي۔ خصوصا اس لیے کہ عراق کے وزیراعظم نوری مالکی بارہ دسمبر کو امریکہ کے دورے پر جانے والے ہیں۔
امریکی حکام نے گزشتہ برسوں کے دوران عراق میں اتنے زیادہ مفادات حاصل کیے ہیں کہ ایسا نہیں لگتا کہ وہ بغداد واشنگٹن سکیورٹی معاہدے کے تناظر میں ان مفادات کو ہاتھ سے جانے دیں گے۔
اس چیز کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام شعبوں خاص طور پر اقتصادی اور فوجی میدانوں میں نئے معاہدے کرنے کے لیے عراقی حکام کے ساتھ بات چیت کے تناظر میں جو بائیڈن کے دورے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ عراق کا تیل امریکی کمپنیوں کے لیے اپنی اہمیت رکھتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے حکام عراق میں اپنی موجودگي کم کر کے ان کمپنیوں کے منافع کو کوئی نقصان نہیں پنہچانا چاہتے۔ اس کے علاوہ علاقائی حالات خاص طور پر شام سے متعلق مسائل کچھ ایسے ہو چکے ہیں کہ شاید امریکی حکام یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ عراقی حکام کے ساتھ بات چیت کر کے شام پر حملے کے لیے عراق کی سرزمین استعمال کرنے کا راستہ کھول سکتے ہیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ عراق موجودہ وقت میں ایسی صورت حال سے دوچار ہے کہ وہ نہ صرف امریکی مطالبات کو پوری طرح تسلیم نہیں کرے گا بلکہ وہ اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ خود کو امریکہ کے آٹھ سالہ قبضے سے آزاد کرا لے۔ ان تمام باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا نہیں لگتا ہے کہ جوبائیڈن کو اپنے دورۂ عراق میں کوئی کامیابی ملے گی۔ خصوصا اس لیے کہ عراق کی رائے عامہ امریکہ کی سخت مخالف ہے اور عراق نے بھی شام کے مسائل کے بارے میں امریکہ نے عرب لیگ کو دمشق کے خلاف جو ڈکٹیشن دی تھی اس کا ساتھ نہیں دیا ہے۔
........ 
/169