ابنا: بنیادی آئین کی دفعہ 44 کے خصوصی کمیشن کے سربراہ فولاد گر نے مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا سرکاری اور قانونی مؤقف برطانیہ کے ساتھ روابط کو کم کرنے پر استوار ہے اور طلباء کی خود جوش تحریک در حقیقت ایرانی عوام کے پختہ عزم کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہا کہ طلباء کا احتجاج در حقیقت ایرانی عوام کی نمائندگی میں ہوا ہے اور پوری ایرانی قوم برطانیہ کی سازشوں اور اس کے معاندانہ رویہ سے سخت تنگ آچکی ہے انھوں نے سکیورٹی کونسل کی دوگانہ پالیسی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اقوام متحدہ اس عمل کو خلاف قانون سمجھتی ہے تو پھر اس نے ایرانی سفارتخانوں پر حملوں کی کیوں مذمت نہیں کی، انھوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے برطانیہ کی سکیورٹی کونسل کے ساتھ کوئی خاص رشتہ داری ہے۔ فولاد گر نے کہا کہ طلباء کا احتجاج در حقیقت برطانیہ سے ایرانی عوام کی نفرت کا برملا اظہار تھا۔ انھوں نے کہا کہ ایرانی قوم سامراجی طاقتوں کی ریشہ دوانیوں کے سامنے ہر گزسر تسلیم خم نہیں کرےگی.......
/169