26 نومبر 2011 - 20:30

بسیج سیاسی ہے، سیاست باز نہیں، مجاہد ہے، نظم و ضبط سے عاری اور انتہا پسند نہیں، دیندار ہے لیکن تنگ نظری، رجعت پسندی اور خرافات و توہمات سے بالاتر ہے؛بابصیرت ہے متکبر نہی،جذب کرنے والی ہے، لیکن اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والی نہیں ہے؛ باغیرت، حق و باطل کے درمیان سرحدوں کی پاسدار، علم و سائنس کی حامی ہے، لیکن سائنس زدہ نہیں ہے،اخلاق اسلامی کی حامل تحریک ہے لیکن دکھاوے کا شکار نہیں ہے؛دنیا کو آباد کرنے کے درپے ہے لیکن دنیا پرست نہیں ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا، رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي امام خامنہ اي نے اتوار کو بسیج کے ہزاروں نوجوانوں سے خطاب سے خطاب کیا۔

امام خامنہ ای کے خطاب کا مکمل متن:

بسم‌الله‌الرّحمن‌الرّحيم‌

الحمد لله ربّ العالمين و الصّلاة و السّلام على سيّدنا محمّد و ءاله الطّاهرين‌ سيّما بقيّةالله فى الأرضين‌.خداوند متعال کا شکر گزار ہوں جس نے مجھے اس پرشکوہ اور بہت اچھے جلسے میں حاضر ہونے کی توفیق عطا فرمائی، میدان میں کھڑے ہوئے بھائیوں اور بہنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ بیٹھ جائیں تا کہ ہم بحث کرسکیں۔آج یکم محرم الحرام ہے، ایک تناسب ہے بسیج کے تشخص اور حقیقت اور محرم و عاشورا کی حقیقت میں۔ بسیج کو اعزاز حاصل ہے کہ یہ مکتب عاشورا کی پیرو ہے۔ البتہ عاشورا جان نثاری اور قربانی و ایثار کا نقطۂ عروج ہے۔ پوری تاریخ اور پورے عالم نے مسئلۂ عاشورا اور حسین بن علی علیہ السلام آپ (ع) کے اصحابِ باوفا کو اسی خصوصیت کی روشنی میں پہچانا ہے؛ راہ خدا اور اہداف الہی کے حصول کی راہ میں فداکاری اور ایثار؛ لیکن عاشورا کا مسئلہ محض یہی نہیں ہے، جی ہاں! عاشورا کی اہم ترین اور نمایان ترین خصوصیت یہی قربانی اور شہادت ہے؛ تا ہم  عاشورا کے واقعے میں دوسرے حقائق بھی پائے جاتے ہیں۔ مدینہ سے سفر و عزیمت کے آغاز سے ہی معرفت کا بیج بویا گیا ـ یہ عاشورا کی خصوصیات میں سے ایک ہے ـ بصیرت کا بیج بویا گیا۔ اگر کوئی قوم اور کوئی امت بصیرت سے بہرہ مند نہ ہو، مختلف حقائق ان کے مسائل کو سدھار نہیں سکیں گے؛ ان کے مسائل کی پیچیدگیاں حل نہیں ہوسکیں گی۔ لہذا اخلاص، موقع شناسی، ایک بڑھتی ہوئی تاریخی تحریک کا بیج بونا، عاشورا کی اہم خصوصیات میں سے ہے۔ ماجرا صرف ظہر عاشورا کو ہی ختم نہیں ہوا؛ درحقیقت ظہر عاشورا سے تاریخ میں ایک حرکت کا آغاز ہوا جو بدستور وسیع سے وسیعتر ہورہی ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے بعد بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔ امام حسین علیہ السلام کلمۂ حق کی سربلندی اور خلق خدا کو نجات دلانے کے لئے اپنا پورا سرمایہ لے کر میدان میں آئے۔ یہ وہ بعض خصوصیات ہیں جو انسان عاشورا کے واقعے میں دیکھ سکتا ہے اور دکھا سکتا ہے۔ بسیج یہی راستہ ہے؛ یہی تحریک ہے؛ یہی اہداف ہیں؛ یہی وسائل اور یہی اوزار ہیں۔ بسیج لوگوں کا ایک فداکار اور جان نثار مجموعہ ہے؛ لوگوں کے لئے؛ ایک مجاہد ملت کی عظیم تحریک میں ایک مجموعے کی تشکیل۔ دفاع میں موجودگی اور کردار، علم و سائنس کے میدان میں موجودگی اور کردار، آرٹ اور فن کے میدان میں میں موجودگی اور کردار، تعمیر و ترقی کے میدان میں میں موجودگی اور کردار، مستضعفین، مساکین اور لاچار افراد کو مدد پہنچانے کے میدان میں موجودگی اور کردار، پیداوار، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں موجودگی اور کردار، ملک کے مختلف مسائل کو آگے بڑھانے کے میدان میں موجودگی اور کردار، کھیل اور ورزش کے میدان میں موجودگی اور کردار، عالمی سطح پر تابندگی اور درخشندگیوں کے میدان میں کرداراور ہر کار خیر میں شرکت، یہ بسیج کی تحریک ہے۔ ایک عوامی تحریک، لوگوں کے لئے، عوام کے دل میں، عوام ہی میں سے، تمام طبقات میں سے، خواتین، نوجوانوں، بوڑھوں اور تمام طبقوں اور اصناف میں سے۔ یعنی حقیقی حزب اللہ کے ایک مجموعے کی تشکیل۔بسیج سیاسی ہے لیکن سیاست زدہ نہیں ہے، سیاست باز نہیں ہے، دھڑوں سے وابستہ نہیں ہے، بسیج مجاہد ہے لیکن نظم و ضبط سے عاری نہیں اور بے قابو قوت نہیں ہے، انتہا پسند نہیں ہے، بسیج اپنے وجود کی اتہاہ گہرائی سے دیندار اور احکام الہی کے سامنے سر خم کرنے والی تحریک ہے لیکن تنگ نظر، رجعت پسند اور خرافات و توہمات سے بالاتر ہے؛ بسیج با بصیرت ہے لیکن متکبر نہیں ہے؛ بسیج دوسروں کو اپنی جانب جذب کرنے والی تحریک ہے ـ ہم نے کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جذب کرنا ضروری ہے ـ لیکن اصولوں پر سمجھوتہ کرنے والی نہیں ہے؛ بسیج با غیرت ہے، حق و باطل کے درمیان سرحدوں کی پاسدار ہے؛ بسیج علم و سائنس کی حامی ہے، لیکن سائنس زدہ ہے اور علم زدہ نہیں ہے؛ بسیج اخلاق اسلامی کی حامل تحریک ہے لیکن دکھاوے اور ریاکاری کا شکار نہیں ہے؛ بسیج دنیا کو آباد کرنے کے درپے ہے، لیکن خود اہل دنیا اور دنیا پرست نہیں ہے۔ یہ ہوگئی ایک ثقافت، ایک فرہنگ۔بسیجی فرہنگ و ثقافت یعنی ان معرفتوں اور روشوں اور مَنِشوں کا مجموعہ ہے جو ایک ملت میں عظیم مجموعے معرض وجود میں لانے کی قوت رکھتی ہیں، ایسی معرفتیں، روشیں اور مَنِشیں جو اس ملت کی مستقیم اور پائدار تحریک کی ضمانت فراہم کرتی ہیں۔ یہ ایک سوچ اور ایک تفکر ہے؛ یہ محض ایک ذہنی تفکر ہی نہیں ہے بلکہ بیرونی دنیا میں عینی صورت میں بھی موجود ہے۔ بسیج کی تحریک نے ایران کے مقدرات کو ہی نہیں بلکہ ایران سے بڑھ کر دنیا کے مقدرات کو بدل دیا اور متعین کیا۔ روز اول ہی سے امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کی بسیج نے انقلاب کے مختلف میدانوں میں انقلاب کی کامیابی تک اور انقلاب کے بعد ایسی تحریک چلائی جو امر ہوگئی، نمونہ و مثال بن گئی، تاریخ کے ورق پر ملت ایران کی یادگار بن گئی۔ آج نیویارک اور واشنگٹن کے نوجوان بھی مصری اور تیونسی عوام کے نعرے دہرا رہے ہیں، وہ یہیں سے متأثر ہوئے اور وہ خود بھی اس کا اقرار کرتے ہیں۔ مصر اور تیونس کے نوجوان حزب اللہ اور حماس سے متأثر ہوئے اور انہوں نے حزب اللہ اور حماس کی اثرانگیزی کا کبھی انکار نہیں کیا؛ اور عصر جدید میں ان سب کا معلم اول ہمارے امام (رحمۃاللہ علیہ) کا بسیجی تھا؛ کیونکہ سب نے ہمارے امام (رحمۃ اللہ علیہ) کے بسیجی جان نثاروں سے سیکھا اور اس انقلاب کے جانبازوں اور سپاہیوں اور جان نثاروں سے سیکھا کہ مادی قوت کے افسانوی علامتوں اور (Legends) کو کیونکر توڑا جاسکتا ہے، خدا کا نام لے کر بتوں کو کیونکر توڑا جاسکتا ہے، کس طرح استقامت کی جاسکتی ہے اور کس طرح ڈٹا جاسکتا ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں جن سے آج ہمیں ـ بسیج کا وجود، وجود کی عینیت، بسیج کی تحریک اور بسیج کے اہداف ـ  روشناس کراتے ہیں۔ انقلاب اسلامی اور انقلابی ملت نے اس طرح کی ثقافت و تعلیمات اور اس طرح کے حوصلے اور جذبے کی مدد سے ناممکنات کو ممکن بنایا، اور انہیں عملی جامہ پہنایا؛ اور یہ تحریک جاری رہے گی۔ دشمنوں کی دشمنی کا کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ دشمن ہر صورت میں دشمنی کرتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کرنا چاہئے، تا ہم جب ہم ابتداء سے آج تک ملت ایران کی عظیم حرکت اور اس عمومی تحریک کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہ ایک مشخص اور متعین راستے پر گامزن ہے۔ ملت ایران آگے کی سمت بڑھ رہی ہے، چوٹیوں کی جانب بڑھ رہی ہے، مختلف میدانوں میں مختلف قسم کے چیلنجوں پر غلبہ پاتی ہے اور اسی مقابلے اور تصادم کے میدانوں میں دشمن پسپائی اختیار کرتے ہیں، اپنا ہدف چھوڑ کر پیٹھ دکھاتے ہیں؛ وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔ اس تحریک کی وجہ سے ملت ایران کا انجام روشن اور اس کی فتح یقینی ہے۔ آج پورے اسلامی خطے اور عرب خطے میں، اسلامی تحریکیں اور اسلامی ابال نظر آرہے ہیں؛ یہ وہی چیز ہے جس کا انقلاب کی حقیقت سے واقف لوگ تیس برسوں سے انتظار کررہے تھے اور انقلاب اسلامی کے دشمن تیس برس سے اس کے تصور سے لرزہ بر اندام تھے؛ وہ ان واقعات سے خوفزدہ تھے جو آج رونما ہوئے ہیں۔ انقلاب اسلامی کے خلاف منصوبہ بندیاں اور سازشیں کرنے والے پیشین گوئی کررہے تھے کہ اس طرح کے واقعات رونما ہونگے؛ اور یہ واقعات پیش آئے اور یہ سلسلہ آگے بڑھتا رہے گا اور رکے گا نہیں۔ آج عرب خطے میں مسلمانوں نے سر اٹھایا ہے، آگاہ ہوگئے ہیں، بیدار ہوگئے ہیں، دشمن انہیں کچل نہیں سکتے اور ان کو ان کے راستے سے منحرف نہیں کرسکتے۔ حرکت شروع ہوچکی ہے اور اس حرکت نے دنیا کی صورت حال پر اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہی تحریکیں جو آپ آج مغرب میں، امریکہ میں اور یورپ میں، دیکھ رہے ہیں، عظیم تبدیلیوں کی علامت ہیں اور دنیا کا مستقبل ان تبدیلیوں کا نظارہ کرے گا۔ ہم دشمنوں کے رد عمل سے حیرت زدہ نہیں ہوتے، وہ جو دھمکیاں دے رہے ہیں، جو پابندیاں لگا رہے ہیں، جو اعمال استکباری ممالک اس مرحلے میں اسلامی جمہوری نظام کے مقابلے میں انجام دے رہے ہیں، وہ ہمارے لئے حیرت انگیز نہیں ہیں۔  وہ جانتے ہیں کہ ان تحریکوں کا مرکزہ اسلامی جمہوری نظام اور ملت ایران کی استقامت ہے جس نے یہ جذبہ اور یہ حوصلہ پورے خطے میں پھیلادیا ہے کہ "استکبار کے رعب ر دبدبے اور غلبے کے سامنے استقامت کی جاسکتی ہے"۔ استکبار نے اپنے اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے "مرعوب کردینے کی پالیسی" پر کاربند ہوکر اقوام کو خوفزدہ کررہا تھا، ملکوں کے سربراہوں کو ڈرا دھمکا رہا تھا، اور اس طرح اپنا کام نکالا کرتا تھا۔ جب رعب و ہیبت کا یہ پردہ پھٹ جائے، جب اقوام جان لیں کہ یہ ہیبت اور یہ رعب و دبدبہ حقیقی نہیں اور واقعی نہیں ہے، بلکہ ظاہری اور مصنوعی ہے تو یہ ہتھیار استکبار کے ہاتھ سے چھن جاتا ہے۔ اور آج ایسا ہی ہوا ہے چنانچہ وہ بہت عضبناک ہیں، وہ غصے کی حالت میں ہیں اور اسلامی جمہوریہ پر دباؤ ڈآل کر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔ البتہ اگر وہ اسلامی جمہوریہ پر الزام لگائیں کہ اس نے ان تحریکوں کا آغاز کیا ہے تو یہ غلط ہے اور ایک بے جا تہمت ہے؛ ایسا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلامی نظام اپنی بقاء، اور اس راہ میں اپنی استقامت اور اپنی صداقت کے بدولت ـ جو ملت ایران نے ثاب کرکے دکھائی ہے، متأثر کن اور الہام بخش تھا۔ قومیں جاگ چکی ہیں اور انھوں نے اپنا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔ سو دشمن بھی دشمنی کررہے ہیں۔ البتہ یہ دشمنیاں چیلنجوں کا سبب بن رہی ہیں۔ ملت ایران ان چیلنجوں کی عادی ہوچکی ہے اور ہم انشاءاللہ ان تمام چیلنجوں پر غلبہ پائیں گے جو دشمنان اسلام ہمارے سامنے پیدا کررہے ہیں اور کامیاب و فتح یاب ہونگے اور خداوند متعال نے یہ فتح اور کامیابی ملت ایران کے لئے اور بالآخر امت اسلامی کے لئے اور پوری دنیا میں اسلام کے نورانی حقائق کے استقرار کی صورت میں، مقدر فرمایا ہے۔ہمیں امید ہے کہ خداوند متعال ہماری پوری ملت، ہمارے عزیز بسیجی نوجوانوں کو، اس ملک کے تمام نوجوانوں کو اور ملکک کے ذمہ داروں کو اس راہ پر ثابت قدمی کی توفیق عطا فرمائے۔ سب کو جان لینا چاہئے کہ اس سلسلے میں وہ جواب دہ ہیں؛ ملک کے تمام ذمہ دار حکام، معاشرے کے تمام طبقات سب کے سب جوابدہ ہیں۔ عوام میدان میں حاضر ہیں۔ ہر قسم کے قضایا اور واقعات میں عوام کی آمادگی اور تیاری، مکمل ہے۔ حکام کو بھی اس ملت اور اس کی تیاری کی قدردانی کرنی چاہئے اور مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ میں اپنے اوپر عائد ذمہ داریوں کو بطور احسن نبھانا چاہئے اور ملت کو بھی اتحاد و یکجہتی کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے۔اسلامی دنیا کے اطراف میں شروع ہونی والی اسلامی تحریکیں بھی بلاشک پائیدار اور باقی رہنے والی تحریکیں ہیں اور آگے بڑھنے والی تحریکیں ہیں۔ قومیں یکے بعد دیگرے بیدار ہورہی ہیں، استکبار کے کٹھ پتلی حکمران یکے بعد دیگرے میدان سے باہر ہورہے ہیں اور انشاء اللہ روز بروز اسلام کی شوکت اور قوت می