20 نومبر 2011 - 20:30

بحرینی حکام کی جانب سے بقول ان کے ایران سے وابستہ ایک دہشتگرد گروہ کا سراغ لگنے پر مبنی بیانات دیۓ جانے کے بعد تہران میں تعینات اس ملک کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ میں طلب کیا گيا ہے۔

ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے خلیج فارس کے امور کے ڈائریکٹر حسین کمالیان نے تہران میں تعینات بحرین کے ناظم الامور سے ملاقات میں متحدہ عرب امارات میں گرفتار ہونے والے افراد کے ساتھ ایران کے ہر طرح کے تعلق اور رابطے کو مسترد کرتے ہوۓ ان کو ایران مخالف بے بنیاد الزامات دہراۓ جانے پر اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کے شدید اعتراض اور برہمی سے آگاہ کیا۔ ایران کے بارے میں بحرین کے حکام کا دعوی در حقیقت امریکی حکام کے اسی دعوے کا اعادہ ہے جس میں انہوں نے چند ہفتے قبل ایران پر امریکہ میں تعینات سعودی عرب کے سفیر عادل الجبیر کے قتل کی کوشش کا الزام لگایا تھا۔ بحرین کے حکام کو کئي مہینوں سے شدید اعتراضات کا سامنا ہے اور انہوں نے سعودی عرب کے فوجیوں کی مدد سے اپنے عوام کو کچلنے کے سلسلے میں بہت سے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ لیکن بحرین کی حکومت کی جانب سے مظاہرین پر روا رکھے جانے والے مظالم کے باوجود اس حکومت کے خلاف اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے۔ بحرین کی صورتحال کو دیکھ کر ایسا لگتا ہےکہ آل خلیفہ کی شاہی حکومت تمام آپشنز کو استعمال کرنے کے باوجود اپنی سرنگونی کے قریب پہنچ چکی ہے۔ اسی لۓ وہ امریکی ڈکٹیشن کے مطابق اپنے داخلی بحران کا ذمے دار دوسروں کو قرار دے کر اصل صورتحال کو مسخ کر کے پیش کرنا چاہتی ہے ۔ اسی لۓ امریکہ ، سعودی عرب اور بحرین کے مشترکہ سناریو کا اصل مقصد بحران کا الزام دوسروں پر لگانا ہے۔ دوسرا مقصد ایران اور خطے کے عرب ممالک کے تعلقات بگاڑنا اور ان میں اختلافات پیدا کرنا ہے۔ خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ امریکہ ، سعودی عرب اور بحرین کے مشترکہ سناریو میں ایران فوبیا کو شامل کیا گيا ہے اور خطے میں امریکہ کی فوجی موجودگي کے جواز کے لۓ ایران اور خطے کے عرب ممالک کے تعلقات میں کشیدگی امریکہ کی اسٹریٹیجی کا حصہ ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ خطے کے عرب ممالک کے لۓ ایک فرضی دشمن اور فرضی اور من گھڑت دہشتگردانہ کارروائيوں کو ناکام بنانے جیسے سناریو تیار کر کے ان ممالک کو دھوکہ دینا چاہتا ہے۔ امریکہ نے اس سلسلے میں سعودی عرب اور بحرین جیسے ممالک کا انتخاب سوچ سمجھ کر کیا ہے ۔ سعودی عرب اور بحرین خطے میں امریکہ کے فوجی اڈے شمار ہوتے ہیں۔ دوسری جانب عراق اور افغانستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی کے تسلسل کے خلاف ، کہ جس کی وجہ سے خطے میں بدامنی پھیلی ہوئي ہے ، خطے کی اقوام مسلسل احتجاج کررہی ہیں۔ ان حالات میں امریکہ ریاض اور منامہ کے حکمرانوں کو استعمال کر کے اور خطے کے ممالک کو خود ساختہ بحران کی جانب دھکیل کر نۓ بہانے پیدا کرنا چاہتا ہے۔ ان تمام حقائق کے پیش نظر بحرین کے ناظم الامور کو وزارت خارجہ طلب کر کے واضح کردیا گیا ہے کہ دوسروں پر الزام تراشی اور پرانے ناکارہ طریقے صرف اس خطے کے دشمنوں کے فائدے میں ہیں اور دوسروں پر الزام لگانے سے بحرین کا بحران حل نہیں ہوگا بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوگي۔
........ 
/169