بسمہ تعالیٰمصر کا انقلابابھی” عقل“کے امتحان اور بھی ہیں!فدا حسین بالہامی
طویل سکوت کے بعد آخر الامر گلے میں اٹکی ہوئیں سسکیاں آوازِ حلق میں تبدیل ہوگیئں۔ جس سے عالمی سیاست کی فضاءمیں ارتعاش پیدا ہوگیا۔انسانوں کی ایک کثرت جو انفرادی سطع پر منتشر و پراگندہ تھی، دیکھتے ہی دیکھتے جم غفیر کی صورت میں جلوہ نما ہوئی۔اسکی جلوہ نمائی سے کور نگاہ آمریت کی آنکھیں چند یا گئیں۔اسکی حالت اب ٹھوکر کھانے والی ا س ضعیف و لاغر بڑھیا کی سی ہے جو گر کر سنبھلے کی کوشش کررہی ہو۔ دفعتاً وہی خون جو ش مارنے لگا جو ایک عرصے سے منجمد تھا۔اور رگوں میں ہی نہیں مصر کی گلی کوچوں میں بھی دوڑنے لگا ۔ یخ بستہ قصرِ شاہی حرارت ِ خون کی تاب نہ لاسکا آنِ واحد میں پگھل کر بکھر گیا۔ اور عوام کی قدم بوسی کرنے لگا۔جن مصریوں کو سالوں سے کوئی پوچھتا تک نہ تھا ۔عالمی میڈیا بگوشِ ہوش ان کی ہر ہر آواز سن کر تائید کرنے لگا ہے جن قیدیوں کو کال کوٹھریوں میں مدت سے کوئی پرسان حال نہ تھا ۔وہ باہر آکر حقیقی آزادی کا مطالبہ کرنے لگے۔ بظاہر آمریت کے جببر سے سرِتسلیم خم کرنے والے سروں میں جمہوریت کا سودا لیئے حسنی مبارک کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہہ رہے ہیں۔ کہ تجھے اب مکاماتِ عمل کامزہ ضرور چکھنا ہوگا۔ وہی دبے کچلے مصری جو گزشتہ تین دہائیوں سے بزبانِ حال ”ارحم ارحم یا مبارک“ کہتے آئے ہیں انہی مصریوں نے ”ارحل ارحل یا مبارک“ کے فلک شگاف نعروں سے حسنی مبارک کو زمین کا رکھا نہ آسمان کا چھوڑا۔اخوان المسلمون کو عضوِ معطل سمجھنے والوں کو احساس ہونے لگا ہے۔ کہ ممکن ہے کہ آنے والے کل میں یہی تنظیم ملک کا نوشتہ تقدیر لکھنے پر مامور ہو ۔ حکم اور حکم کی تعمیل کرنے والے پہلی مرتبہ بغاوت کی لذت سے آشناہوئے ہیں۔ وہ جو صرف اور صرف اقرار کے خوگر تھے۔ جرات ِ انکار سے سر شار دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں فکرو خیال پر بھی قدغن تھی وہاں اب ہزاروں زبانیں ایک ساتھ گویا ہوئیں ۔جنہیں نظامِ دار و رسن کی خفیہ ایجنسی کی دہشت نے ہمہ تن گوش بنایا تھا وہی اب ببانگ دہل اعلان کررہے ۔
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں
ارتقاء (Evalution) کی سست خرامی پر چھوڑ دیا جاتا تو اس قدر تغیّر کے لیئے صدیاں درکار تھیں ۔لیکن یہ ”انقلابِ یاسمین“ کی سبک رفتاری کا اعجاز ہے کہ وہ تیونس سے چل کر کب مصری سرحدوں کو عبور کرگئی؟۔ اور کسطرح مصر کے تن بے جاں میں اسکی روح حلول کرگئی؟ حسنی مبارک جیسے شاطردماغ کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آتی ۔ اور نہ ہی عمر سلمیان جیسے” کر گسی نگاہ“ رکھنے والے خطرناک شکاری کو یہ دراندازی دکھائی دی ! مانا کہ آج کا زمانہ بڑا ہی تیز رفتار ہے۔ مگر زمانے کی دگرگوں خصلت بھی جمودزدہ افراد پر اثر انداز نہیں ہو پاتی ہے۔ بظاہر تو وہاں کوئی خمینی جیسا لیڈربھی نہیں ہے جو اپنی شخصیت کی پر تو سے خوف و دہشت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو زائل کردیتا تاکہ کو تاہ بین عام لوگ بھی اپنی منزل کا نزدیک سے مشاہدہ کر پاتے۔ کیا جمال الدین افغانی کی سیمابی روح پھر سے مصر کی گلی کوچوں میں قدم فرسا ہے؟ اور گھر میں دبھک کر بیٹھے ہوئے مصریوں کو بار بار باہر آنے کی دعوت دے رہی ہے ؟ کہیں کوئی شیخ محمد عبدہ جیسی قدوقامت والی شخصیت بھی تو نظر نہیں آتی۔ جو اتحاد اور روشن فکری کی مشعل لئیے نعرہ زن ہو۔
میں ظلمتِ شب میں لے کے نکلوں گا اپنے درماندہ کارواں کو شرر فشاں ہوگی آہ میری نفس میرا شعلہ بار ہوگا
کیا حسن البنا کی پر سوز قیادت پھرسے اپنی قوم پر حرارت کا خزانہ لٹا رہی ہے؟ کیا سید قطب شہید کی قلم کی روشنائی اب بھی حسنی مبارک جیسے منحوس چہرے کو داغدارکررہی ہے؟ یا پھر علامہ اقبال نے عالم ارواح سے آکر فرمانِ پروردگار کو فرشتوں کے بجائے مصریوں کے گوش گزار کیا ہے؟
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو کاخِ امرا کے در و دیوار ہلا دوگرماؤ غلاموں کا لہو سوزِ یقین سے گنجشک فرومایہ کو شاہین سے لڑادوسلطانی جمہور کا آتا ہے زمانہ جو نقشِ کہن تم کو نظر آئے مٹادوجس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلادو
یہ بھی تو ممکنات میں سے ہے کہ غزہ کے اُن شیرخوار بچوں کے آنسوو ں کے سیلاب نے حسنی مبارک کا بھیڑا غرق کردیا جن کی گرسنگی اور تشنگی کی ایک بڑی وجہ اس یزیدِ وقت کی سفاکی بنی۔خیر سبب جو کچھ بھی رہا ہو۔ اس انقلاب نے قعرِ مذلت میں پڑ ے ہوئے مصریوں کو ملک و ملت کی تقدیر سازی کا موقع فراہم کیا۔ اور ملک و ملت کے تقدیر سنوارنے میں عوامی جوش و جذبے کی نسبت قیادت کی صلابت و صلاحیت کا زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ الیکس کارل نے لطیف نکتے کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”ہر مذہب و مکتب اور انقلابی تحریک کے اجزائے ترکیبی دو عناصر ہوتے ہیں عقل اور عشق۔ ایک روشنی کا ماخذ ہے اور دوسرا حرارت کا مخزن! ایک کا کام ہے جمود زدہ لوگوں کو متحرک کرنا اور دوسرا لوگوں میں شعور و آگاہی پیدا کرتا ہے ان کو دانائی و بینائی عطا کرتا ہے۔“اس کے ذیل میں ڈاکٹر علی شریعتی فرماتے ہیں کہ کسی بھی معاشرہ میں جب کوئی تحریک ابھرتی ہے یا کوئی فکری انقلاب رونما ہوتا ہے تو دانشور، خود آگاہ اور روشن فکر طبقہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے لیے راہِ عمل کی نشاندہی کرے۔ اور عوام اس آگاہی کے نتیجہ میں اپنے جوش و جذبہ اور ذوقِ عمل کے ذریعے اس تحریک میں روح پھونکتے ہیں اور اسے حرکت و توانائی عطا کرتے ہیں۔“ان دو مفکروں کے مطابق عوام سراپا عشق و جذبہ کی علامت ہے اور قیادت دانائی و بینائی کے مترادف۔ لہٰذا بجا طور پر کہا جاسکتاہے کہ مصر میں عشق کی آگ (یعنی عوام کے جوش و جذبہ) نے نظام کہن کی بوسیدہ عمارتوں کو ان میں موجود دستور سمیت خاکستر کردیا۔ اب وہاں کے سیاسی، مذہبی اور فکری تعمیر گروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین ِ نو کے حامل ایک سیاسی ڈھانچہ کی تعمیر و تنظیم کا اہتمام کریں۔ عوام نے جلوت میں آکر وحدت کی طاقت کا مظاہرہ تو کردیا۔ اب قیائدین کو خلوت میں سرجوڑ کر بیٹھنا ہوگا تاکہ ایک صالح نظام کا خاکہ تیار کرلیں۔ جگر سوزی کا مرحلہ کسی حد تک عوام کے ذریعے خوش اسلوبی سے بڑی سرعت کے ساتھ طے ہوا ہے۔ لیکن دماغ سوزی اور ہوشمندی کا مرحلہ طے کرنابھی باقی ہے۔ عوام نے جذبہ قربانی،پا مردی، یقینِ محکم، تحمل و بردباری، نظم و ضبط سے طاغوت کے دانت کھٹے کردیئے۔ اب قائدین کی دور اندیشی کا امتحان ہوگا۔ ان میں خلوص کی پرکھ ہوگی۔ انہیں سامراج کی خفیہ اور اعلانیہ دھمکیوں کے سامنے ثباتِ قدم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔عین ممکن ہے ڈالروںکی جھنکار سے انکو مسحور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ امریکی مفادات کی منڈی میں بڑے بڑے سروں کا تول مول ہوگا۔ اگر قائدینِ مصران مختلف کسوٹیوں پرکھرے نہیں اترے تو اب تک کے کئے کرائے پر بھی پانی پھر سکتا ہے۔ اس اعتبار سے کہا جاسکتا ہے کہ مصری انقلاب کو” دلی ہنوز دور است“ کا معاملہ درپیش ہے۔ ایک دیگر پہلو سے بھی مسئلہ کی سنگینی سامنے آتی ہے۔ یہ کہنا ابھی شاید قبل از وقت ہوگا کہ حسنی مبارک کے چلے جانے ، مصری آمریت کلی طور فنا کے گھاٹ اتر گئی۔ کیونکہ مصر کی سیاسی بساط میں جبر پر مبنی باطل نظام نے اپنی جڑوں کا جال بُنا ہے۔ ان جڑوں کو مکمل طور اُکھاڑ پھینکنا کارے دارد والا معاملہ ہے۔ یہ زہر تو مصر کے رگ و ریشہ میں سرایت کرچکا ہے۔ اس کے اثر کو کاملاً زائل کرنا جس قدر مشقت طلب ہے اسی قدر اجتماعی سوجھ بوجھ کا بھی متقاضی ہے۔ امریکہ اور اُسکے قاسہ برداروں کے لئے یقیناً حسنی مبارک جیسے وفادار غلام کا حشر ایک بڑے حادثے سے کم نہیں لیکن یہ سمجھنا کہ صرف یہی تنہا شخص تھا جس نے امریکی اور اسرائیلی مفادات کیلئے تمام قومی وسائل سمیت خود کو وقف رکھا تھا۔ بہت بڑی غلط فہمی ہے بلکہ اس کے توسط سے مصر کا نظام حکومت اور اس نظام کو چلانے والے بہت سے کارندے بھی مغرب علی الخصوص امریکی استعمار کے آلہ کار بن گئے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ نظام اتنا سخت جان ہوا کرتا ہے کہ سر کاٹے جانے کے بعد بھی اعضا و جوارح یک لخت کام کرنا نہیں چھوڑتے۔ وضاحتاً یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ مصر کی آمرانہ حکومت کا سر ( حسنی مبارک) کٹ کر دھڑ سے تو الگ ہوگیا مگر عمر سلیمان اور طنطانوی وغیرہ جیسے اس کے دست و پا ابھی تک سرگرم ہیں۔یہاں پر امریکی استعمار کی یہ خاصیت ہرگز نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے کہ ہزیمت کے روبرو ہوکر بھی یہ کبھی مایوسی کا شکار نہیں ہوتا اور بآسانی ہتھیار نہیں ڈالتا۔ اس کے یہاں اگر ایک مہرا پٹ جائے تو دوسرے متبادل مہرے کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اعلانیہ کارندہ مات کھا جائے تو خفیہ کارندوں کو فوراً حرکت میں لایا جاتا ہے۔ حالیہ مصری انقلاب کے دوران امریکہ کا منافقانہ کردار اس حوالے سے منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس عوامی تحریک کو خامو ش کرے اور اسکے وسیع تر اثرات کو ناکارہ کرنے کیلئے امریکہ نے گرگٹ کی طرح کئی رنگ بدلے۔۱۔ اولاً حسنی مبارک کا اقتدار تو انہیں کامرہونِ منت ہے۔ اس اقتدار کو طول دینے کی خاطر امریکہ نے تمام وسائل بروئے کارلائے اور ہر ممکنہ عسکری و اقتصادی امداد فراہم کی۔ حتاکہ عوامی غیض و غضب سے اپنے اس ایجنٹ کو بچانے کے سلسلے میں بہت سے پاپڑ بیلے۔ تہران ٹائمز میں چھپی ایک مصدقہ خبر کے مطابق جس وقت آزادی کے متوالے تحریر اسکوائر میں جوق در جوق جمع ہورہے تھے۔ انہی دنوں جنرل سِسَن (General Sesson) کی سربراہی میں تین امریکی اور دو اسرائیلی جنرل خصوصی طیارے کے ذریعے قاہرہ بھیج دیئے گئے تاکہ وہاں کی فوجی قیادت کو مزید ابلیسی ہتھکنڈے آزمانے کا گُر سکھائیں۔۲۔ جب استعمار کو یہ محسوس ہونے لگا کہ عوامی انقلاب کا سیلاب تھمنے کا نام نہیں لیتا اور اب حسنی مبارک کا زوال طے ہے۔ اور عام مصریوں کی عالی ہمتی کے سامنے یہ سنگِ راہ تا دیر نہیں ٹک سکتا۔ تو رکاوٹیں کھڑی کرنے کے بجائے ہدفِ کارواں تبدیل کرنے کا دوسرا پیترا استعمال میں لایا گیا۔ تحریک عزیمت کو کمزور معیشت کاردِ عمل بتلاکر اقتصادی اصلاحات کے راگ الاپے گئے۔۳۔ مندرجہ بالا دونوں پیترے جب ناکارہ ثابت ہوئے تو عالمی استکبار نے محمد البرادعی جیسے سکیولر غلاموں کو فرعونی منصوبے کی تکمیل کے لئے قاہرہ روانہ کیا۔ یہ وہی شخص ہے کہ جس کو وائٹ ہاو ¿س کی طرف سے NOC کی سند حاصل ہے جب ہی تو وہ اقوام متحدہ کے ایک کلیدی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ سامراجی حربوں میں سب سے بڑا حربہ یہی ہوتا ہے۔ کہ وقت کے فرعونی کارندوں کو کلیم اللٰی کے لباس میں پیش کیا جاتا ہے اور ان کو قائد و سربراہ کے طور پروجیکٹ کرکے تحریک و انقلاب کو غیر محسوس طریقے پر ہائی جیک کیا جاتا ہے۔ دوست نما دشمن اور رہبر نما رہزن توانقلاب پذیر قوموں کیلئے اعلانیہ دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔لیڈرشپ کا خلا جواس وقت مصر کو درپیش ہے امریکہ یہ خلا بھی اُن کٹھ پتلیوں سے پر کرنا چاہتا ہے جنہیں وہ ایک عرصہ سے اپنے نہاںخانوں میں پالتاآیا ہے۔ اور ایسا ہی ہوا تو